صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 29

غزل شمارهٔ 29

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اریازتست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

مرغ خوش لهجه و شاهین شکاری از تست

زندگی را روش نوری و ناری از تست

(اے ربِ کائنات) ایک خوش الحان پرندہ ہو یا شکار کرنے والا ایک باز ۔ دونوں تیری ہی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ اس زندگی میں نو ر اور نار کے جو راستے نظر آتے ہیں وہ بھی تیری ہی تخلیق ہیں (ہر چیز میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ) ۔

Thine is the hawk upon the wing and thine the thrush sweet-carolling, thine is the light and joy of life and thine its fire and baneful strife.

2

دل بیدار و کف خاک و تماشای جهان

سیر این ماه بشب گونه عماری از تست

اس مٹھی بھر خاک میں جو روشن دل ہے وہ تیری قدرت کے نظارے کر رہا ہے ۔ یہ اس چاند کی مانند ہے جو رات کی ڈولی میں سفر کرتا ہے ۔ یعنی میرا یہ دل اگرچہ ایک تاریک بدن میں قید ہے پھر بھی یہ سارے جہان کی سیر کر رہا ہے ۔

Thou gayest me a heart awake and, through the world my way to take, a little dust – a moon forlorn upon a night-dark litter borne.

3

همه افکار من از تست چه در دل چه بلب

گهر از بحر بر آری نه بر آری از تست

میرے سارے افکار خواہ وہ دل میں ہیں یا میری زبان پر تیری ہی وجہ سے ہیں ۔ اب اگر تو اس سمندر سے موتی نکالے یا نہ نکالے یہ تیری مرضی پر منحصر ہے ۔

My every thought from thee doth start, whether on lip or in the heart; whether the pearl be brought from sea, or left enfoundered, ‘tis of thee.

4

من همان مشت غبارم که بجائی نرسد

لاله از تست و نم ابر بهاری از تست

میں تو وہی مشتِ غبار ہوں جو کسی جگہ بھی نہیں پہنچتی ۔ میری حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ یہ گل لالہ اور بہار کے بادلوں میں نمی تیری ہی وجہ سے ہے ۔

I am the selfsame cloud of dust swept idly as the wind doth lust; tulip, and springtime’s scattered dew. Thou art their sole creator too.

5

نقش پرداز توئی ما قلم افشانیم

حاضر آرائی و آینده نگاری از تست

تو ہی تو اس جہان کا اصل مصور ہے ۔ ہم تو محض قلم کار ہیں اس قلم میں نقش و نگار پیدا کرنے والا تو خالق کائنات ہے جو کچھ میرے سامنے ہو رہا ہے اور جو کچھ مستقبل میں ہوگا سب کا سب تو ہی ہے ۔

Thou art the painter; Thy design inspires and moves this brush of mine; Thy hands the living world adorn, and shape the ages yet unborn.

6

گله ها داشتم از دل به زبانم نرسید

مهر و بی مهری و عیاری و یاری از تست

مجھے اس جہان اور اہل جہان سے بہت سی شکایتیں ہیں ۔ لیکن میں انہیں زبان پر نہیں لاتا ۔ کیونکہ میں اس بات سے باخبر ہو چکا ہوں کہ محبت عداوت، مکاری اور دوستی سب کچھ تیری وجہ سے ہے ۔ اس لیے شکوہ و شکایت فضول ہے ۔

Much sorrow in my heart I had that by the tongue could not be said: Love, lovelessness, troth, treachery – all things alike are sprung of thee.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نه در اندیشهٔ من کار زار کفر و ایمانی

نه در جان غم اندوزم هوای باغ رضوانی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 28

اگلی نظم

خوشتر ز هزار پارسائی

گامی به طریق آشنائی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 30

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور