صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 43

غزل شمارهٔ 43

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ینبادا

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

این دل که مرا دادی لبریز یقین بادا

این جام جهان بینم روشن تر ازین بادا

اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔

Let this heart Thou gavest me overflow with certainty, and my world-beholding glass all its radiance surpass.

2

تلخی که فرو ریزد گردون به سفال من

در کام کهن رندی آنهم شکرین بادا

میرے مٹی کے پیالے میں آسمان سے تلخ شراب کی جو تلجھٹ تو انڈیل رہا ہے اس پرانے مے کش کے حلق سے اترتے ہی یہ شکر میں تبدیل ہو جائے ۔ یعنی زندگی کے مصائب کا سامنا ہنسی خوشی کرتا رہوں ۔

Let the bitter potion poured by the heavens in my gourd on this toper’s tongue of mine taste as sweet as honeyed wine.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کف خاکی برگ و سازم برهی فشانم او را

به امید اینکه روزی بفلک رسانم او را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 42

اگلی نظم

رمز عشق تو به ارباب هوس نتوان گفت

سخن از تاب و تب شعله به خس نتوان گفت

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 44

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور