شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: ینبادا
صنف: غزل/قصیده/قطعه
این دل که مرا دادی لبریز یقین بادا
این جام جهان بینم روشن تر ازین بادا
اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔
Let this heart Thou gavest me overflow with certainty, and my world-beholding glass all its radiance surpass.
تلخی که فرو ریزد گردون به سفال من
در کام کهن رندی آنهم شکرین بادا
میرے مٹی کے پیالے میں آسمان سے تلخ شراب کی جو تلجھٹ تو انڈیل رہا ہے اس پرانے مے کش کے حلق سے اترتے ہی یہ شکر میں تبدیل ہو جائے ۔ یعنی زندگی کے مصائب کا سامنا ہنسی خوشی کرتا رہوں ۔
Let the bitter potion poured by the heavens in my gourd on this toper’s tongue of mine taste as sweet as honeyed wine.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور