شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: سنتوانگفت
صنف: غزل/قصیده/قطعه
رمز عشق تو به ارباب هوس نتوان گفت
سخن از تاب و تب شعله به خس نتوان گفت
اے خدا! تیرے عشق کا بھید ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کے سامنے نہیں کھولا جا سکتا ۔ شعلہ میں تڑپ کی بات گھاس کے تنکے سے کہنا فضول ہے ۔ کیونکہ وہ اس تڑپ سے ہی نا آشنا ۔ جب تک شعلہ کی تڑپ تنکے تک نہیں پہنچے گی ۔ اسے اس جلن اور تڑپ کا احساس کب ہو گا اس لیے اہل ہوس کو بھی عشق کی رمز سے کوئی سروکار نہیں ۔
To passion’s slaves let no man e’er the mystery of Thy love declare: It is not meet for straws to hear talk of the blazing brazier.
تو مرا ذوق بیان دادی و گفتی که بگوی
هست در سینهٔ من آنچه بکس نتوان گفت
تو نے مجھے قوت بیان عطا کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم دیا ہے کہ میں اپنی قوت بیان سے دوسرے لوگوں سے اپنے دل کی بات کہہ دوں ۔ لیکن میرے سینے میں جو (افکار ہیں ) انہیں تمام لوگوں سے تو بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ راز کی بات تو رازداروں سے ہی کہی جا سکتی ہے ۔
I was to eloquence designed, and Thou hast bid me speak my mind; such things are in the breast of me as unto none may uttered be.
از نهانخانهٔ دل خوش غزلی می خیزد
سر شاخی همه گویم به قفس نتوان گفت
میرے دل کے پوشیدہ خانے میں ایک بہت ہی اچھی غزل پیدا ہو رہی ہے ۔ یہ غزل کسی شاخ ہر (آزاد فضا) میں ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ قید خانے میں یہ غزل کہنا بے کار ہے ۔
Deep in my heart’s recesses lies the sweetest song that yearns to rise; among the leaves my notes shall ring, but in the cage I cannot sing.
شوق اگر زندهٔ جاوید نباشد عجب است
که حدیث تو درین یک دو نفس نتوان گفت
عشق اگر ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز نہیں ہے تو بڑی حیرت کی بات ہے کیونکہ تیری(عشق) کی داستاں (ایک دو سانسوں یعنی عارضی زندگی میں نہیں کہی جا سکتی) ۔
‘Tis passing strange, if yearning be not born to immortality; how can Thy history be said in these few breaths, ere I am dead?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور