یاد ایامی که خوردم باده ها با چنگ و نی
جام می در دست من مینای می در دست وی
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
Ah, the wine, the lute, the piping, the dear memories of old, when I held the brimming beaker and my friend a bowl of gold.
درکنار آئی خزان ما زند رنگ بهار
ورنیا ئی فرودین افسرده تر گردد ز دی
اگر تو میرے پہلو میں موجود ہوتا تو میرے لیے خزاں کا موسم بہار کا رنگ اختیار کر لیتا اور اگرتو نہ ہو تو رنگِ بہار خزاں سے بھی زیادہ بے کیف اور افسردہ ہوتا ہے ۔
An’ Thou comest to my bosom, in my autumn spring shall glow; an’ Thou come not, May lies mourning colder than December’s snow.
بیتو جان من چو آن سازی که تارش در گسست
در حضور از سینهٔ من نغمه خیزد پی به پی
تیرے فراق میں میری جان اس ساز کی طرح ہے جس کے تار ٹوٹ گئے ہوں ۔ جب مجھے وصل کی گھڑیاں نصیب ہوتی ہیں تو میرے سینے سے مسلسل نغمے بلند ہوتے رہتے ہیں ۔
Mute my soul, when Thou art absent, like a harp with broken strings; from my breast, when Thou art with me, rise melodious whisperings.
آنچه من در بزم شوق آورده ام دانی که چیست؟
یک چمن گل یک نیستان ناله یک خمخانه می
جو کچھ میں محفل شوق میں لے کر آیا ہوں کیا تجھے خبر ہے کہ وہ کیا ہے وہ پھولوں کا ایک چمن آہ و زاری کے سرکنڈوں کا ایک جنگل اور شراب سے بھرپور ایک شراب خانہ ہے ۔
Well Thou knowest what conveying unto passion’s feast I went: Wine in vat, a mead of roses, and a reed-bed of lament.
زنده کن باز آن محبت را که از نیروی او
بوریای ره نشینی در فتد با تخت کی
ساقی دوراں تو از سر نو وہی محبت زندہ کر دے جس کی قوت و طاقت سے ایک راہ نشیں کا بوریا ایران کے بادشاہ کیخسرو کے ساتھ مقابلہ کرے ۔
Now renew love’s old dominion, that by virtue of its sway equal shall the vagrant’s mat be to the royal throne of Kay.
دوستان خرم که بر منزل رسید آواره ئی
من پریشان جاده های علم و دانش کرده طی
میرے دوستوں کو بے حد خوشی ہے کہ ایک آوارہ منش علم اور حکمت کے پریشان اور پیچیدہ راستے طے کر کے منزل تک جا پہنچا ہے لیکن مجھے کوئی خوشی نہیں کیونکہ علم و حکمت کے راستے سچی منزل تک نہیں پہنچاتے ۔
Cry the friends with glad rejoicing that a wanderer is home; though I trod the paths of knowledge, in my desert still I roam.
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور