صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 46

غزل شمارهٔ 46

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: رمارا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

انجم بگریبان ریخت این دیدهٔ تر ما را

بیرون ز سپهر انداخت این ذوق نظر ما را

میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔

Stars on my bosom shine wept from these eyes of mine: Lo, beyond heaven’s height; cast me the joy of sight;

2

هر چند زمین سائیم برتر ز ثریانیم

دانی که نمی زیبد عمری چو شرر ما را

بلاشبہ ہم زمین پر چلنے والے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں ہمارا مقام و مرتبہ ثریا سے بھی بلند ہے ۔ تجھے یہ خبر ہے کہ ہمیں چنگاری جیسی عارضی زندگی پسند نہیں (ہم تو جاودانی ہیں ) ۔

Soared, though in dust I lay, high o’er the starry way; life of the ember’s glow likes me not, Thou dost know.

3

شام و سحر عالم از گردش ما خیزد

دانی که نمی سازد این شام و سحر ما را

شام و سحر تو ہماری گردش سے پیدا ہوتے ہیں ؛ اس لیے یہ شام و سحر ہمیں کیسے موافق آ سکتے ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

All the world’s eve and morn are of my whirling born; Thou know’st this morn and eve my soul can scarce receive.

4

این شیشهٔ گردون را از باده تهی کردیم

کم کاسه مشو ساقی مینای دگر ما را

اس جام میں جتنی شراب موجود تھی ہم نے پی کر خالی کر دیا ہے ۔ اے ساقی ہمیں شراب پلانے سے گریز نہ کر ایک اور صراحی لے آ تاکہ ہماری پیاس کا کچھ تو بندوبست ہو (معرفت الہٰی کی شراب سے عاشق کبھی سیر نہیں ہوتے ) ۔

Wine brimmed in heaven’s cup; I took and drank it up; Saki! Not sparing be another bowl for me!

5

شایان جنون ما پهنای دو گیتی نیست

این راهگذر ما را آن راهگذر ما را

دونوں جہانوں کی وسعتیں ہمارے جنوں کے لائق نہیں ہیں ۔ یہ جہان بھی ہمارے لیے ایک راہ گزر کی طرح ہے اور ہم مسافر ہیں اور وہ جہاں بھی ہمارے لیے ایک راہ گزر ہی ہے ۔ (کیونکہ انسان اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے دونوں جہانوں سے بالاتر ہے) ۔

Not both the worlds suffice my folly’s avarice; earth is a passing day, heaven a passage-way.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یاد ایامی که خوردم باده ها با چنگ و نی

جام می در دست من مینای می در دست وی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 45

اگلی نظم

خاور که آسمان بکمند خیال اوست

از خویشتن گسسته و بی سوز آرزوست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 47

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آخر بشنید آن مه آه سحر ما را

تا حشر دگر آمد امشب حشر ما را

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 76

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور