خاور که آسمان بکمند خیال اوست
از خویشتن گسسته و بی سوز آرزوست
اہل مشرق کہ جن کی فکر کی کمند میں آسمان ہے محض خیال پرستی کرتے ہیں ۔ (بے عمل ہیں ) یہ اپنے آپ سے بے خبر اور آرزو کے سوز سے خالی ہیں ۔ ہمیشہ غیروں کے محتاج نظر آتے ہیں ۔
The East, that holds the heavens fast within the noose its fancy cast, its spirit’s bonds are all united, the flames of its desire have died.
در تیره خاک او تب و تاب حیات نیست
جولان موج را نگران از کنار جوست
ان کی سیاہ (علم سے عاری) مٹی میں زندگی کی تڑپ اور حرارت موجود نہیں ہے وہ ندی (سمندر) کے کنارے کھڑے ہو کر اس کی لہر کی اچھال کو دیکھ رہے ہیں (آرام طلب ہو چکے ہیں ) ۔
The burning glow of living birth pulses no more in its dark earth; it stands upon the river side and gazes at the surging tide.
بتخانه و حرم همه افسرده آتشی
پیر مغان شراب هوا خورده در سبوست
بت خانہ ہو یا حرم کعبہ، سب میں آتشِ شوق ٹھنڈی ہو چکی ہے ۔ (دونوں اپنے اپنے اصولوں سے بیگانہ ہو چکے ہیں ) ۔ پیر مغاں کی صراحی میں جو شراب ہے کھلی ہوا میں پڑی رہنے کے باعث بدذائقہ ہو چکی ہے ۔
Faint, faint the fires of worship be in temple and in sanctuary; the Magian still his cup would pass, but stale the wine is in his glass.
فکر فرنگ پیش مجاز آورد سجود
بینای کور و مست تماشای رنگ و بوست
(مشرق کے برعکس) اہلِ یورپ کی حکمت و دانش مجاز کے سامنے سجدہ ریز ہے (حقیقت سے نا آشنا ہے) وہ چشمِ بینا تو رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اندھے ہیں (مادہ پرستی میں گم ہو کر حقیقت سے دور جا چکے ہیں ) ۔
The vision of the West is blind, illusion fills the Western mind; drunken with magic scent and hue, it bows before the great untrue.
گردنده تر ز چرخ و رباینده تر ز مرگ
از دست او به دامن ما چاک بی رفوست
وہ (اہل یورپ) آسمان سے زیادہ تیزی سے گردش میں ہیں اور موت سے بڑھ کر لٹیرے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں سے (دورِ غلامی سے) ہمارے گریبان میں ایسے چاک پڑ چکے ہیں جنہیں سیا نہیں جا سکتا (اہل یورپ نے جتنا اقوام مشرق کو تباہ و برباد کیا ہے اتنا تو قدرتی آفات اور موت نے بھی نہیں کیا) ۔
Swifter it spins than heaven’s sphere; death is a gentler ravisher; its fingers have so torn my soul, never again can it be whole.
خاکی نهاد و خو ز سپهر کهن گرفت
عیار و بی مدار و کلان کار و تو بتوست
اہلِ یورپ ویسے تو ہماری طرح مٹی ہی کی پیداوار ہیں (انسان ہیں ) لیکن انھوں نے اپنی عادتیں پرانے آسمان (قدرتی آفات) جیسی اپنائی ہیں ۔ وہ مکار، بے اصول، چالاک و ہوشیار اور منافق ہیں ۔
Of the earth earthy, it would try to emulate the ancient sky; a rogue, a cheat, of works immense, with pivot none, and little sense.
مشرق خراب و مغرب از آن بیشتر خراب
عالم تمام مرده و بی ذوق جستجوست
اہلِ مشرق تو خراب ہی ہیں اہلِ مغرب تو ان سے بھی زیادہ خرابی میں پڑے ہیں ۔ ساری دنیا مردہ اور جستجو سے خالی ہو چکی ہے (حقیقت سے دور ہو چکی ہے) ۔
The East is waste and desolate, the West is more bewildered yet the ardent quest inspires no more, death reigns supreme the whole world o’er.
ساقی بیار باده و بزم شبانه ساز
ما را خراب یک نگه محرمانه ساز
اے ساقی! اب موقع ہے ۔ شراب لا اور رات کی بزم آراستہ کر ۔ ہمیں اپنی محرمانہ (حقیقت آشنا) نگاہوں سے خراب کر دے (خدا کی محبت از سر نو دلوں میں زندہ کر دے) ۔
Bring me the wine of heart’s delight, and spread the banquet of the night; give me the bold, adventurous eye, and in love’s transport let me die.
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور