صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 48

غزل شمارهٔ 48

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: اررا

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

فرصت کشمکش مده این دل بی قرار را

یک دو شکن زیاده کن گیسوی تابدار را

(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔

Leave no quarter to resist to this restless heart of mine give Thy curls another twist, let Thy tresses intertwine.

2

از تو درون سینه ام برق تجلئی که من

با مه و مهر داده ام تلخی انتظار را

تیرے (حسن کے جلووَں کے باعث) میرے سینے میں تجلی کی ایسی چمک پیدا ہوئی ہے کہ اسکے (دیدار) کے لیے میں نے چاند اور سورج کو بھی انتظار کی تکلیف میں ڈال رکھا ہے (چاند اور سورج بھی میرے دل کی تجلیات دیکھنے کے تمنائی ہیں ) ۔

In my heart Thy lightning shone radiant as flashing gold, which the expectant sun and moon marveled sorely to behold.

3

ذوق حضور در جهان رسم صنم گری نهاد

عشق فریب می دهد جان امیدوار را

(محبوب) کی صورت کا نظارہ کرنے کی آرزو نے دنیا میں بت گری کی رسم پیدا کر دی ہے ۔ (لوگوں نے محبوب کے مجسمے تراش لیے ہیں ) ۔ (یہ ان کا قصور نہیں ) سچی بات تو یہ ہے کہ عشق دیدار کی مشتاق جان کو ہمیشہ دھوکا دیا ہی کرتا ہے ۔ (محبوب سامنے نہ سہی، اس کا خیالی مجسمہ ہی دل کے بہلانے کے لیے کافی ہے) ۔

Holy joy to dwell with thee fashioned world idolatry; love with his deceitful art ever cheats the hopeful heart.

4

تا بفراغ خاطری نغمهٔ تازه ئی زنم

باز به مرغزار ده طایر مرغزار را

(تو اگر سامنے ہو) تو میں اطمینانِ قلب اور آسودگی کے لیے کوئی نغمہ چھیڑ دوں ۔ سبزہ زار کے پرندے کو پھر سے سبزہ زار کے سپرد کر دے ۔ (میرا دل غیر کی محبت میں جکڑا ہوا ہے اسے پھر سے حقیقت آشنا کر دے ۔ )

Come the meadow-bird again to the green and meadowed plain that with mind devoid of care I may tune a sweet, new air.

5

طبع بلند داده ئی بند ز پای من گشای

تا به پلاس تو دهم خلعت شهریار را

اے خدا تو نے مجھے بلند فکر بنایا ہے تو میرے پاؤں کی زنجیر کھول کر مجھے آزاد کر دے تا کہ میں کسی کا محتاج نہ رہوں اور تیرا پیغام بھی بخوبی دوسروں تک پہنچا سکوں اور میں تیرے عطا کردہ اس موٹے کپڑے کے لباس کے بدلے میں بادشاہ کے ایرانہ و شاہانہ لباس کو ترک کر کے غریبوں کو ان کے شاہانہ طور طریقے سکھاؤں ۔

A high soul Thou gavest me; loose my bonds, and set me free? Kingly raiment I would spurn if Thy sackcloth I may earn.

6

تیشه اگر بسنگ زد این چه مقام گفتگوست

عشق بدوش می کشد این همه کوهسار را

اگر (فرہاد) نے کسی پتھر یا پہاڑ پر (نہر کھودنے کے لیے) تیشہ چلایا تھا تو یہ کونسا بڑا کام تھا ۔ عشق میں ایسی قوت ہے کہ پورا پہاڑی سلسلہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے ۔

If the axe (as legend says) cleave the rock, shall that amaze love upon his shoulder bears such a mountain-range of cares!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خاور که آسمان بکمند خیال اوست

از خویشتن گسسته و بی سوز آرزوست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 47

اگلی نظم

جانم در آویخت با روزگاران

جوی است نالان در کوهساران

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 49

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور