شاعر: علامہ اقبال
وزن: مستفعلن فع مستفعلن فع (متقارب مثمن اثلم)
قافیہ: اران
صنف: غزل/قصیده/قطعه
جانم در آویخت با روزگاران
جوی است نالان در کوهساران
میری جان کائنات (زمان و مکان) سے بالکل اسی طرح متضاد ہے جس طرح پہاڑی سلسلے میں بہتی ہوئی ندی کا پانی (پتھروں سے ٹکرانے کے بعد ) شور کرتا ہے ۔
My soul, embattled with fortune ever, weeps like a river among the mountains.
پیدا ستیزد پنهان ستیزد
ناپایداری با پایداران
(یہ کائنات) میری جان سے کبھی تو ظاہری طور پر کشمکش اختیار کرتی ہے اور کبھی پوشیدہ طور پر ۔ ناپائیدار اور فانی دنیا سے میری پائیدار جان ہمیشہ کشمکش میں رہتی ہے ۔
Open and secret fate is assailing, to the unfailing fickle and faithless.
این کوه و صحرا این دشت و دریا
نی راز داران نی غمگساران
یہ کوہ و صحرا ، یہ دشت و دریا ؛ نہ ہمارے راز محبت سے باخبر ہیں اور نہ ہمارے غمگسار۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Mountain and desert, ocean and prairie secret unwary un-sympathizing.
بیگانهٔ شوق بیگانهٔ شوق
این جویباران این آبشاران
یہ ندیاں اور یہ آبشار، شوق سے بیگانہ ہیں ۔ شوق (عشق سے بے خبر ہیں ) ۔
Stranger to passion, stranger to yearning rivulet’s turning, spray of the fountains.
فریاد بی سوز فریاد بی سوز
بانگ هزاران در شاخساران
یہاں آہ و زاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہاں ! آہ و زاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ (درختوں ) کی شاخوں پر بسیرا کرنے والی بلبلوں کی آوازیں بھی بے اثر ہو چکی ہیں ۔ (دنیا فکر سے خالی ہو چکی ہے ۔ ) ۔
Pale lamentation’s flameless outpouring nightingales soaring song in the thicket.
داغی که سوزد در سینهٔ من
آن داغ کم سوخت در لاله زاران
وہ داغ (مسلم قوم کے پسماندہ ہونے کا) جو میرے سینے میں جلتا ہے ایسے داغ تو لالہ کے پھولوں کے چمن میں بھی کم جلے ہوں گے ۔
Burns in my bosom the brand of passion; in such a fashion burns not the tulip.
محفل ندارد ساقی ندارد
تلخی که سازد با بیقراران
محفل بھی نہیں ہے اور ساقی بھی موجود نہیں ۔ (کون سا ایسا) تلخ (غمزدہ) ہو جو ہم بے قراروں (عاشقوں کے ساتھ رہنا پسند کرے ۔ عاشقوں کے مطلب کی بزم اب ناپید ہو چکی) ۔
No wine of Saki, no spirits’ riot; the soul unquiet bitterly suffers.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور