صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 50

غزل شمارهٔ 50

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: ارخودرا

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

به تسلئی که دادی نگذاشت کار خود را

بتو باز می سپارم دل بیقرار خود را

(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔

In Thy hands I now deliver once again my restless heart; it will never cease from labour for the ease.

2

چه دلی که محنت او ز نفس شماری او

که بدست خود ندارد رگ روزگار خود را

اس دل کی کیا حالت ہے ۔ جس کی محنت (دھڑکنے) کا تعلق چار و ناچار زندگی بسر کرنے سے ہے کہ زمانے کی نبض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے (وہ دل جو عشق سے بیگانہ ہے مجبوراً دھڑک رہا ہے اس لیے بیکار ہے) ۔

Thou wouldst impart hapless heart! Whose whole affliction is the counting of the breath, having not within its power to be lord of life and death.

3

بضمیرت آرمیدم تو بجوش خود نمائی

بکناره برفکندی در آبدار خود را

میں نے تو تیرے دل میں بسیرا کیا تھا ۔ لیکن تو نے خود نمائی کے جوش میں اپنے خوبصورت چمکتے ہوئے موتی کو (دریا سے نکال کر) کنارے پر پھینک دیا ۔ (اگر خدا کی خود جلوہ نمائی کی خواہش نہ ہوتی تو کائنات وجود میں نہ آتی) ۔

In Thy thought as I was slumb’ring Thou, desirous of display, this Thy pearl of lustrous beauty from Thy breast didst cast away.

4

مه و انجم از تو دارد گله ها شنیده باشی

که بخاک تیره ما زده ئی شرار خود را

اے خالق کائنات! تو نے چاند اور ستاروں کا شکوہ تو سنا ہو گا ۔ یہ شکوہ اس بنا پر تھا کہ تو نے ان میں دل کیوں پیدا نہیں کیا ۔ تو نے ہماری تاریک مٹی میں اپنی محبت کی چنگاری پھینکی ہے جو کسی اور مخلوق میں نہیں ہے ۔

Loud complaint they laid against thee, moon and stars (didst Thou not hear?) that Thy spark Thou hast enkindled in my ashes dark and drear.

5

خلشی به سینهٔ ما ز خدنگ او غنیمت

که اگر بپایش افتد نبرد شکار خود را

ہمارے سینہ میں (محبت کے) تیر کی ایک خلش بھی غنیمت ہے ۔ کیونکہ (محبت) تو ایسا شکاری ہے کہ اگر شکار خود اس کے قدموں میں آ گرے پھر بھی وہ اسے نہ لے جائے ۔

In my breast His arrow pricking – there is glory, there is fame! If I cast myself before Him, He’d not seize me for His game.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جانم در آویخت با روزگاران

جوی است نالان در کوهساران

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 49

اگلی نظم

بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را

من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 51

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور