بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را
من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را
اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔
A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.
ز مشتاقان اگر تاب سخن بردی نمیدانی
محبت می کند گویا نگاه بی زبانی را
اگر تو نے اپنے چاہنے والوں سے قوت ِ گویائی چھین لی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ محبت تو ایسی چیز ہے جو ایک بے زبان کی نگاہ کو قوت ِ گویائی عطا کر دیتی ہے ۔
Take Thou the faculty of speech from such as yearn Thy heart to reach, knowest Thou not, that love conveys eloquence in the tongueless gaze?
کجا نوری که غیر از قاصدی چیزی نمیداند
کجا خاکی که در آغوش دارد آسمانی را
(اس شعر میں فرشتوں اور خاکی انسان کا موازنہ کیا گیا ہے) کہاں یہ نوری مخلوق (فرشتے) جو پیغام خدا کو لانے کے فراءض ادا کرے ہیں ۔ اور اس کے سوا وہ کچھ نہیں جانتے، اور کہاں مٹی کا بنا ہوا یہ پتلا (انسان) جو آسمان اپنے پہلو میں رکھتا ہے ۔ (اس انسان کو کائنات کے اسرار کی خبر ہے) ۔
To sons of light naught else is known except the messenger alone; the son of earth, in rank so base, high heaven holds in his embrace.
اگر یک ذره کم گردد ز انگیز وجود من
باین قیمت نمی گیرم حیات جاودانی را
اگر میرے وجود میں ایک ذرہ بھی کم ہو جائے تو میں اس قیمت کے بدلے میں ابدی زندگی بھی قبول نہیں کروں گا (کیونکہ کائنات میں رونق میرے ہی وجود کی وجہ سے ہے)
If but one atom I must give of this the fabric that I live, too great a price were that, for me to purchase immortality.
من ای دریای بی پایان بموج تو در افتادم
نه گوهر آرزو دارم نه می جویم کرانی را
اے بے کنار دریا (سمندر) میں تیری موج سے لپٹ گیا ہوں ۔ مجھے نہ تو موتی درکار ہے اور نہ ہی میں کنارے کی آرزو رکھتا ہوں (میرا تعلق خدا سے ہے اور میں اسی کا ہو گیا ہوں ) ۔
Great ocean, infinitely vast, into Thy wave myself I cast; yet not ambitious to obtain the pearl, or that far coast to gain.
از آن معنی که چون شبنم بجان من فرو ریزی
جهانی تازه پیدا کرده ام عرض فغانی را
اس معانی (فکر و دانش) سے کہ جو شبنم کی طرح تو نے میری جان پر نازل کیے ہیں انہیں (اپنی آہ و زاری کو) بیان کرنے کے لیے میں نے ایک نیا جہاں پیدا کر لیا ہے ( میں تیرا الہام کردہ پیغام دوسروں تک پہنچاتا رہوں گا) ۔
Into my soul this meaning true Thou pourest like the summer dew, whereof with sorrow and with sighs a new world dawns upon mine eyes.
زمین
بههستی انقطاعی نیست از سر سرگرانی را
نفس باشد رگ خواب پریشان زندگانی را
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 168
فسون جاه عذر لنگ سازد پرفشانی را
به غلتانی رساند آب درگوهر روانی را
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 170
عطارد مشتری باید، متاع آسمانی را
مهی مریخچشم ارزد، چراغ آن جهانی را
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 56
به عصیان مگذران زنهار ایام جوانی را
مکن صرف زمین شور، آب زندگانی را
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 442
مده از دست در پیری شراب ارغوانی را
شراب کهنه از دل می برد یاد جوانی را
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 443
به آهی می توان از خود برآوردن جهانی را
که یک رهبر به منزل می رساند کاروانی را
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 444
به پایان محبت یاد می آرم زمانی را
که دل عهد وفا نابسته دام دلستانی را
غالب دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 23
پس از کشتن به خوابم دید نازم بدگمانی را
به خود پیچد که هی هی دی غلط کردم فلانی را
غالب دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 24
کجا بودی که امشب سوختی آزرده جانی را
به قدر روز محشر طول دادی هر زمانی را
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 58
در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را
پس از مدت شنیدم نغمه های ساربانی را
علامہ اقبالزبور عجمغزلیاتغزل شمارهٔ 60
فارسی متن کا ماخذ: گنجور