صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 51

غزل شمارهٔ 51

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: انیرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 10

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را

من از ذوق حضوری طول دادم داستانی را

اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔

A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.

2

ز مشتاقان اگر تاب سخن بردی نمیدانی

محبت می کند گویا نگاه بی زبانی را

اگر تو نے اپنے چاہنے والوں سے قوت ِ گویائی چھین لی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ محبت تو ایسی چیز ہے جو ایک بے زبان کی نگاہ کو قوت ِ گویائی عطا کر دیتی ہے ۔

Take Thou the faculty of speech from such as yearn Thy heart to reach, knowest Thou not, that love conveys eloquence in the tongueless gaze?

3

کجا نوری که غیر از قاصدی چیزی نمیداند

کجا خاکی که در آغوش دارد آسمانی را

(اس شعر میں فرشتوں اور خاکی انسان کا موازنہ کیا گیا ہے) کہاں یہ نوری مخلوق (فرشتے) جو پیغام خدا کو لانے کے فراءض ادا کرے ہیں ۔ اور اس کے سوا وہ کچھ نہیں جانتے، اور کہاں مٹی کا بنا ہوا یہ پتلا (انسان) جو آسمان اپنے پہلو میں رکھتا ہے ۔ (اس انسان کو کائنات کے اسرار کی خبر ہے) ۔

To sons of light naught else is known except the messenger alone; the son of earth, in rank so base, high heaven holds in his embrace.

4

اگر یک ذره کم گردد ز انگیز وجود من

باین قیمت نمی گیرم حیات جاودانی را

اگر میرے وجود میں ایک ذرہ بھی کم ہو جائے تو میں اس قیمت کے بدلے میں ابدی زندگی بھی قبول نہیں کروں گا (کیونکہ کائنات میں رونق میرے ہی وجود کی وجہ سے ہے)

If but one atom I must give of this the fabric that I live, too great a price were that, for me to purchase immortality.

5

من ای دریای بی پایان بموج تو در افتادم

نه گوهر آرزو دارم نه می جویم کرانی را

اے بے کنار دریا (سمندر) میں تیری موج سے لپٹ گیا ہوں ۔ مجھے نہ تو موتی درکار ہے اور نہ ہی میں کنارے کی آرزو رکھتا ہوں (میرا تعلق خدا سے ہے اور میں اسی کا ہو گیا ہوں ) ۔

Great ocean, infinitely vast, into Thy wave myself I cast; yet not ambitious to obtain the pearl, or that far coast to gain.

6

از آن معنی که چون شبنم بجان من فرو ریزی

جهانی تازه پیدا کرده ام عرض فغانی را

اس معانی (فکر و دانش) سے کہ جو شبنم کی طرح تو نے میری جان پر نازل کیے ہیں انہیں (اپنی آہ و زاری کو) بیان کرنے کے لیے میں نے ایک نیا جہاں پیدا کر لیا ہے ( میں تیرا الہام کردہ پیغام دوسروں تک پہنچاتا رہوں گا) ۔

Into my soul this meaning true Thou pourest like the summer dew, whereof with sorrow and with sighs a new world dawns upon mine eyes.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به تسلئی که دادی نگذاشت کار خود را

بتو باز می سپارم دل بیقرار خود را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 50

اگلی نظم

چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را

چهره گشا تمام کن جلوهٔ ناتمام را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 52

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به‌هستی انقطاعی نیست از سر سرگرانی را

نفس باشد رگ خواب پریشان زندگانی را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 168

فسون جاه عذر لنگ سازد پرفشانی را

به غلتانی رساند آب درگوهر روانی را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 170

عطارد مشتری باید‌، متاع آسمانی را

مهی مریخ‌چشم ارزد‌، چراغ آن جهانی را

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 56

به عصیان مگذران زنهار ایام جوانی را

مکن صرف زمین شور، آب زندگانی را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 442

مده از دست در پیری شراب ارغوانی را

شراب کهنه از دل می برد یاد جوانی را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 443

به آهی می توان از خود برآوردن جهانی را

که یک رهبر به منزل می رساند کاروانی را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 444

به پایان محبت یاد می آرم زمانی را

که دل عهد وفا نابسته دام دلستانی را

غالب دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 23

پس از کشتن به خوابم دید نازم بدگمانی را

به خود پیچد که هی هی دی غلط کردم فلانی را

غالب دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 24

کجا بودی که امشب سوختی آزرده جانی را

به قدر روز محشر طول دادی هر زمانی را

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 58

در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

پس از مدت شنیدم نغمه های ساربانی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 60

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور