چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را
چهره گشا تمام کن جلوهٔ ناتمام را
(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔
How long the veil of eve and dawn about Thy beauty shall be drawn? Thy cheek display: make whole to me this incomplete epiphany.
سوز و گداز حالتی است باده ز من طلب کنی
پیش تو گر بیان کنم مستی این مقام را
عشق میں جو سوز گداز (حرار ت اور تڑپ) ہوتی ہے وہ ایسی حالت ہے جس سے مستی چھائی رہتی ہے ۔ لیکن تو مجھ سے بادہ جام کی مستی کر رہا ہے ۔ اگر میں سوز و گداز کے مقام کی مستی کا حال بیان کر دوں تو تجھے معلوم ہو جائے گا شراب عشق سے بڑھ کر مست کرنے والی اور شراب نہیں ہے ۔
O glad consuming! Rapture fine! Thyself wouldst beg of me for wine if unto thee I did relate the intoxication of my state.
من بسرود زندگی آتش او فزوده ام
تو نم شبنمی بده لالهٔ تشنه کام را
میں نے زندگی کا نغمہ سنا کر (عشق) کی آگ کو بھڑکایا ہے ۔ تو اس پیاسے حلق والے گل لالہ کو شبنم کی نمی عطا کر (یعنی اہل شوق کو اپنی معرفت کی دولت عطا کر دے) ۔
I added to the song of life the counterpoint of fiery strife; scatter the dew that quenches drowth into the tulip’s thirsty mouth.
عقل ورق ورق بگشت عشق به نکته ئی رسید
طایر زیرکی برد دانهٔ زیر دام را
عقل نے (زندگی اور کائنات) کی کتاب کے ہر ورق کا مطالعہ کیا ہے لیکن پھر بھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکی ۔ وجہ یہ ہے کہ جال کے نیچے پرندوں کو پکڑنے کے لیے جو دانہ بکھیرا جاتا ہے اسے صرف عقل مند پرندہ ہی اڑا لے جا سکتا ہے اور دوسرے پرندے اپنی نادانی کے سبب دام میں پھنس جاتے ہیں (عشق زیرک ہوتا ہے اور عقل بے وقوف) ۔ عشق دانا پرندے کی طرح رمزِ عشق جان لیتا ہے اور عقل نادان پرندوں کی طرح دنیا کے گورکھ دھندے میں گرفتار ہو جاتی ہے ۔
Mind searched the volume thro’ and thro’ Love found at once the subtle clue; the clever bird will ever gain beneath the snare the hidden grain.
نغمه کجا و من کجا ساز سخن بهانه ایست
سوی قطار می کشم ناقهٔ بی زمام را
کہاں یہ نغمہ اور کہاں ہیں ۔ یہ شاعری کا ساز تو نغمہ پیدا کرنے کا اک بہانہ ہے ۔ میں تو ایک حدی خواں کی طرح نغمے الاپ کر بے مہار اونٹنی کو ایک مرکز کی طرف بلا رہا ہوں ۔
Where is the song, and he that sung? Words are a lyre pretence has strung; I draw towards the camel-train the erring beast without a rein.
وقت برهنه گفتن است من به کنایه گفته ام
خود تو بگو کجا برم هم نفسان خام را
اب تو بات صاف صاف کرنے کا وقت ہے لیکن میں اشاریوں اور رمزوں میں بات کر رہا ہوں (کیونکہ اہلِ ذوق کی کمی ہے) اے خدا! اب تو ہی بتا کہ میں ان ناپختہ کار دوستوں کو کہاں لے جاؤں ۔
In riddles yet I spake, forsooth; now is the time for naked truth; do Thou declare, where I shall lead my fellow-travelers in their need.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور