شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: ارخودیم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم
مثال بحر خروشیم و درکنار خودیم
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
One by one we count our breath on the narrow road to death; like a raging sea we roar as we walk along the shore.
اگرچه سطوت دریا امان بکس ندهد
بخلوت صدف او نگاهدار خودیم
اگر دریا کی موجوں کی ہیبت سے کسی کو بھی امان نہیں ۔ پھر بھی ہم اس کے صدف کی تنہائی میں خود کو محفوظ خیال کرتے ہیں ۔ جس طرح صدف کے اندر موتی تمام حوادث سے محفوظ رہتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کے نیک بندے بھی (اولیاء) بھی خدا کی پناہ میں ہوتے ہیں ۔
Though the terror of the sea gives to none security, in the secret of the shell self-preserving we may dwell.
ز جوهری که نهان است در طبیعت ما
مپرس صیرفیان را که ما عیار خودیم
وہ جوہر (خوبیاں ) جو ہمارے اندر پوشیدہ ہیں ۔ اسے جوہریوں سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ کیونکہ ہم تو خود اپنی کسوٹی ہیں (ہم کھرے کھوٹے کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں ) ۔
Ask them not to price the heart, money-changers of the mart; we can estimate alone the true merit of our stone.
نه از خرابهٔ ما کس خراج می خواهد
فقیر راه نشینیم و شهریار خودیم
ہم تو ایسے کھنڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں کہ ہم سے کوئی (بادشاہ) خراج وصول نہیں کرتا ۔ ہم تو سر راہ بیٹھنے والے فقیر (دنیا سے بے نیاز) لوگ ہیں ۔ اپنی دنیا کے خود بادشاہ ہیں ۔
Tribute none is asked of us for our fiefdom ruinous; beggars sitting by the road, we are princes of our- blood.
درون سینهٔ ما دیگری چه بوالعجبی است
کرا خبر که توئی یا که ما دچار خودیم
تیرے سوا ہمارے سینے میں کسی اور کی محبت ہو یہ کیسی عجیب بات ہے اب یہ کون جانے کہ وہاں تو ہے یا آئینے کے سامنے ہم ہی کھڑے ہیں ۔ مطلب یہ کہ میرے اور تیرے درمیان کوئی دوری نہیں ۔ یہ تو ایک واہمہ ہے ۔
There is one (O wonderful!) dwells beside me in my soul; who shall say, if it be thee or myself, I meet in me?
گشای پرده ز تقدیر آدم خاکی
که ما به رهگذر تو در انتظار خودیم
اے خدا! اس خاک کے پتلے کی قسمت کیا ہے اس راز سے پردہ اٹھا دے اور بتا کہ وہ آخر ہے کیا کہ ہم بظاہر تو اپنے منتظر ہیں لیکن اصل میں ہم تیرا ہی انتظار کر ہے ہیں (اپنے آپ کی تلاش دراصل خدا ہی کی تلاش ہے) ۔
Draw aside fate’s veil, I pray, from this Adam shaped of clay; on Thy path precipitate for our coming we await.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور