صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 54

غزل شمارهٔ 54

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: رندارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

به فغان نه لب گشودم که فغان اثر ندارد

غم دل نگفته بهتر همه کس جگر ندارد

میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔

No lament, no sigh I uttered; naught avail laments and sighs; best unspoken, the heart’s sorrow; there be few to sympathize.

2

چه حرم چه دیر هرجا سخنی ز آشنایی

مگر اینکه کس ز راز من و تو خبر ندارد

مسجد کیا اور مندر کیا ، ہر جگہ (اے خدا) لوگ تجھ سے شناسائی کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ہر کوئی تیری معرفت کا دعویدار ہے ۔ لیکن ان میں کوئی بھی (ملا اورپنڈٹ)تیرے اور میرے درمیان راز کی باتیں نہیں جانتا ۔

In the shrine and in the temple there is love-talk every where, yet through all the world none knoweth this great secret that we share.

3

چه ندیدنی‌ست اینجا که شرر جهان ما را

نفسی نگاه دارد، نفسی دگر ندارد

یہ حالت بھی دیکھنے والی نہیں کہ یہاں (شعلہَ عشق) ہماری دنیا پر کبھی ایک نظر ڈالتا ہے اور کبھی نہیں ۔ منزل سلوک میں سالک پر بسط و قبض کی حالت طاری ہوتی ہے ۔ کبھی تو اس کی نظر سماعت سے بھی آگے جا سکتی ہے اور کبھی اسے اپنی بھی خبر نہیں ہوتی ۔

Here are things too fine for vision; as the sparks that upward soar guard our world for a brief moment, and the next it is no more.

4

تو ز راه دیدهٔ ما به ضمیر ما گذشتی

مگر آنچنان گذشتی که نگه خبر ندارد

اے محبوب! تو ہماری آنکھوں کے راستے سے ہمارے دل میں داخل ہو ا ۔ مگر اس طرح کی نگاہوں کو خبر تک نہ ہوئی (اور دل پر تیری محبت نے قبضہ جما لیا) ۔

Coming by the path of seeing Thou didst past into my mind, but so sudden was Thy passing in that hour my eyes were blind.

5

کس ازین نگین شناسان نگذشت بر نگینم

به تو می‌سپارم او را که جهان نظر ندارد

میرے پاس جو نگینہ (دل) ہے وہ کسی جوہری کی نظر سے نہیں گزرا ۔ اسے میں اب تیرے سپرد کرتا ہوں کہ یہ دنیا تو اس کی پہچان سے عاری ہے (کیونکہ اس دل کی اصل قدر و قیمت سے تو ہی آگا ہ ہے) ۔

They that tell the worth of jewels would not heed my jeweled ring; since the world will not regard it, unto thee my gem I bring.

6

قدح خرد فروزی که فرنگ داد ما را

همه آفتاب لیکن اثر سحر ندارد

عقل کو جلا بخشش والی شراب کا پیالہ جو اہلِ یورپ نے مجھے دیا ہے بلاشبہ سورج کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس میں صبح پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ۔ اہلِ مغرب کے علم و دانش میں روشنی تو بہت ہے لیکن اس سے دل تاریک ہو جاتے ہیں (ان کا علم خدا سے دور لے جاتا ہے ۔ روح مرجھا جاتی ہے) ۔

Lo, the goblet mind-illuming that the West hath given me, all the sun’s aglow within it; of the dawn no sign I see.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم

مثال بحر خروشیم و درکنار خودیم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 53

اگلی نظم

ما که افتنده‌تر از پرتو ماه آمده‌ایم

کس چه داند که چسان این همه راه آمده‌ایم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 55

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چه بلاست اینکه پیری ز فنا خبر ندارد

سر ما نگون شد اما ته پا نظر ندارد

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1010

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور