ما که افتندهتر از پرتو ماه آمدهایم
کس چه داند که چسان این همه راه آمدهایم
(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔
Tremulous as the moon-light to our far abode we came; and no man knoweth how we trod this road.
با رقیبان سخن از درد دل ما گفتی
شرمسار از اثر ناله و آه آمدهایم
تو نے (اے محبوب) ہمارے دردِ دل کی بات ہمارے رقیبوں سے کہہ دی ہے ۔ اب میں اپنی فریاد اور آہ و زاری کے اثر سے شرمندہ ہو رہا ہوں ۔ (کیونکہ رقیب جان گئے ہیں کہ میری فریاد بے اثر ہے) ۔
Of our heart’s grief Thou speakest to the watchful spies; we came with lamentation shameful of our sighs.
پرده از چهره برافکن که چو خورشید سحر
بهر دیدار تو لبریز نگاه آمدهایم
اپنے (رخِ روشن) سے پردہ ہٹا کر ہمارے سامنے آ ۔ جس طرح صبح کا سورج رات کا پردہ ہٹا کر سامنے آتا ہے ۔ ہم تیرے دیدار کے لیے دیدہَ دل فرش راہ کئے بیٹھے ہیں ۔
Unveil Thy hidden beauty! As the dawning sun all eyes to gaze upon thee early we run.
عزم ما را به یقین پخته ترک ساز که ما
اندرین معرکه بی خیل و سپاه آمدهایم
میرے ارادے کو یقین کی دولت عطا کر کے اسے ذرا اور پختہ کر دے ۔ کیونکہ ہم اس معرکہ َ (عقل و عشق) میں گھوڑوں اور سپاہیوں کے بغیر (بے سروسامان) آئے ہیں ۔ کیونکہ یہ معرکہ یقین کامل سے ہی سر کیا جا سکتا ہے ۔
Confirm our resolution with a stronger faith: We come unhorsed, narmoured to this field of death.
تو ندانی که نگاهی سر راهی چه کند
در حضور تو دعا گفته به راه آمدهایم
کیا تو اس بات سے بے خبر ہے کہ کسی کی سر راہ نظر بازی کسی کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے (ہمیں اس بات کی خبر ہے) اس لیے ہم تیرے دروازہَ محبت پر دعائیں پڑھتے ہوئے آئے ہیں (کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری مست نظر کا ایک اشارہ ہمیں لوٹ لے) ۔
What a far gaze may fashion art Thou not aware? So fared we in Thy presence, on our lips a prayer.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور