شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: انینگر
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ای خدای مهر و مه خاک پریشانی نگر
ذره ئی در خود فرو پیچد بیابانی نگر
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
Lord, who didst bring the stars to birth, look down upon my scattered earth; the atom doth itself enfold; this boundless wilderness behold.
حسن بی پایان درون سینهٔ خلوت گرفت
آفتاب خویش را زیر گریبانی نگر
تیرے بے پناہ حسن (خوبصورت چہرے) نے میرے سینے میں اپنی جگہ بنا رکھی ہے ۔ اپنے اس سورج کی حرارت میرے گریبان میں دیکھ (کہ میں تیری صفات کا مظہر بن گیا ہوں ) ۔
In solitude within my breast immortal beauty lies at rest; beneath this envelope of clay regard the sun’s effulgent ray.
بر دل آدم زدی عشق بلاانگیز را
آتش خود را به آغوش نیستانی نگر
تو نے آدم کے دل پر اپنے بے پناہ حسن کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے اب اس آگ کی جلن اپنے سرکنڈوں کی آغوش میں دیکھ (کہ اس نے کس طرح خرمنِ دل جلا کر رکھ دیا ہے) ۔
Tumultuous love Thou didst impart to this my frail and mortal heart; see now Thy conflagration roll among the rushes of my soul.
شوید از دامان هستی داغهای کهنه را
سخت کوشیهای این آلوده دامانی نگر
اے محبوب! تیرا یہ (عشق) ہستی کے پرانے داغ (زخم) دھو دیتا ہے ۔ اس آلودہ دامن انسان کی سخت جدوجہد کی طرف دیکھ (کہ عشق کی موجودگی نے اسے ذرہ آفتاب کر دیا ہے) ۔
Clothed in the robes of old disgrace note how I labour to efface by hard endeavour every stain, and wash life’s garment white again.
خاک ما خیزد که سازد آسمان دیگری
ذره ناچیز و تعمیر بیابانی نگر
میری مٹی ایک اور آسمان کی تعمیر کے لیے اٹھتی ہے ۔ یہ (انسان) ہے تو ایک ناچیز خاک کا ذرہ لیکن غور کر کہ وہ بیابانِ عشق کی تعمیر میں مصروف ہے ۔
My dust ascending in the air seeks a new heaven to prepare; this atom, That is naught, and less, would populate a wilderness!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور