ما از خدای گم شدهایم او به جستجوست
چون ما نیازمند و گرفتار آرزوست
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
We are gone astray from God; he is searching upon the road, for like us, He is need entire and the prisoner of desire.
گاهی به برگ لاله نویسد پیام خویش
گاهی درون سینه مرغان به های و هوست
کبھی وہ (خدا) لالہ کے پھول کی پتہ پر اپنا نام تحریر کر دیتا ہے اور کبھی پرندوں کے سینوں کے اندر (جذبہَ عشق) شورو غل کر رہا ہے ۔
On the tulip’s petal He writes the message His heart indites, yea, and His voice is heard in the passionate song of the bird.
در نرگس آرمید که بیند جمال ما
چندان کرشمه دان که نگاهش به گفتگوست
کبھی وہ محبوب نرگس کی آنکھوں میں آ کر آرام سے بیٹھ گیا ۔ (اس امید پر ) کہ وہ ہمارا جمال (طرزِ عمل) دیکھے ۔ (وہ محبوب) ایسے ناز و ادا جانتا ہے کہ اس کی نگاہیں تک گفتگو کرتی ہیں (گل نرگس بھی اس کی موجودگی کی گواہی دیتی ہے ) ۔
He lay in the iris’ fold our loveliness to behold; bright cup of the ardent gaze whose glance is a hymn of praise!
آهی سحر گهی که زند در فراق ما
بیرون و اندرون زبر و زیر و چار سوست
(اور) صبح (کی پاکیزہ روشنی) میں ہمارے ہجر میں وہ جب آہ کھینچتا ہے تو وہ کائنات کے اندر اور باہر (زمین و آسمان میں ) ہر جگہ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے (کائنات کی ہر شے میں خالق کائنات کا ظہور ہے اور اس کا یہ ظہور اس لیے ہے کہ وہ تخلیق (آدم کا نظارہ کر سکے) ۔
Parted from us, forlorn He sighs with the breath of morn, within and out He doth stand, around, and on every hand.
هنگامه بست از پی دیدار خاکئی
نظاره را بهانه تماشای رنگ و بوست
کائنات کی یہ ساری ہنگامہ آرائی آدم خاکی کے دیدار کے لیے ہے، تماشائے رنگ و بو اسی کے نظارے کا بہانہ ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Great riot created He a creature of clay to see, fashioned the piercing view to gaze upon mortal hue.
پنهان به ذره ذره و ناآشنا هنوز
پیدا چو ماهتاب و به آغوش کاخ و کوست
وہ (خدا) ذرے ذرے میں موجود ہے لیکن ابھی تک اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ وہ چاند کی طرح ظاہر ہے وہ ہر کوچے میں ہر محل میں موجود ہے ۔ اس نے چاند کی روشنی کی طرح ہر چیز اپنی آغوش میں لے رکھی ہے ۔ (وہ تو ہر جگہ موجود ہے لیکن انسان اس سے بے خبر ہے) ۔
Hidden in every grain not yet is He known to man, though bright as the full moon’s grace in cottage and street is His face.
در خاکدان ما گهر زندگی گم است
این گوهری که گم شده مائیم یا که اوست
ہمارے جسم خاکی میں زندگی کا موتی گم ہو چکا ہے ۔ یہ گم شدہ موتی ہم ہیں یا کہ وہ (خدا) (ذات حقیقی ارد گرد تلاش کرنے کی بجائے اگر اپنے اندر تلاش کی جائے تو اس کا سراغ مل سکتا ہے ) ۔
In our envelope all of dust the jewel of life is lost; is it we, or Himself (O say), this pearl that is gone astray?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور