صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 29

غزل شمارهٔ 29

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: وست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ما از خدای گم شده‌ایم او به جستجوست

چون ما نیازمند و گرفتار آرزوست

ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔

We are gone astray from God; he is searching upon the road, for like us, He is need entire and the prisoner of desire.

2

گاهی به برگ لاله نویسد پیام خویش

گاهی درون سینه مرغان به های و هوست

کبھی وہ (خدا) لالہ کے پھول کی پتہ پر اپنا نام تحریر کر دیتا ہے اور کبھی پرندوں کے سینوں کے اندر (جذبہَ عشق) شورو غل کر رہا ہے ۔

On the tulip’s petal He writes the message His heart indites, yea, and His voice is heard in the passionate song of the bird.

3

در نرگس آرمید که بیند جمال ما

چندان کرشمه دان که نگاهش به گفتگوست

کبھی وہ محبوب نرگس کی آنکھوں میں آ کر آرام سے بیٹھ گیا ۔ (اس امید پر ) کہ وہ ہمارا جمال (طرزِ عمل) دیکھے ۔ (وہ محبوب) ایسے ناز و ادا جانتا ہے کہ اس کی نگاہیں تک گفتگو کرتی ہیں (گل نرگس بھی اس کی موجودگی کی گواہی دیتی ہے ) ۔

He lay in the iris’ fold our loveliness to behold; bright cup of the ardent gaze whose glance is a hymn of praise!

4

آهی سحر گهی که زند در فراق ما

بیرون و اندرون زبر و زیر و چار سوست

(اور) صبح (کی پاکیزہ روشنی) میں ہمارے ہجر میں وہ جب آہ کھینچتا ہے تو وہ کائنات کے اندر اور باہر (زمین و آسمان میں ) ہر جگہ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے (کائنات کی ہر شے میں خالق کائنات کا ظہور ہے اور اس کا یہ ظہور اس لیے ہے کہ وہ تخلیق (آدم کا نظارہ کر سکے) ۔

Parted from us, forlorn He sighs with the breath of morn, within and out He doth stand, around, and on every hand.

5

هنگامه بست از پی دیدار خاکئی

نظاره را بهانه تماشای رنگ و بوست

کائنات کی یہ ساری ہنگامہ آرائی آدم خاکی کے دیدار کے لیے ہے، تماشائے رنگ و بو اسی کے نظارے کا بہانہ ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Great riot created He a creature of clay to see, fashioned the piercing view to gaze upon mortal hue.

6

پنهان به ذره ذره و ناآشنا هنوز

پیدا چو ماهتاب و به آغوش کاخ و کوست

وہ (خدا) ذرے ذرے میں موجود ہے لیکن ابھی تک اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ وہ چاند کی طرح ظاہر ہے وہ ہر کوچے میں ہر محل میں موجود ہے ۔ اس نے چاند کی روشنی کی طرح ہر چیز اپنی آغوش میں لے رکھی ہے ۔ (وہ تو ہر جگہ موجود ہے لیکن انسان اس سے بے خبر ہے) ۔

Hidden in every grain not yet is He known to man, though bright as the full moon’s grace in cottage and street is His face.

7

در خاکدان ما گهر زندگی گم است

این گوهری که گم شده مائیم یا که اوست

ہمارے جسم خاکی میں زندگی کا موتی گم ہو چکا ہے ۔ یہ گم شدہ موتی ہم ہیں یا کہ وہ (خدا) (ذات حقیقی ارد گرد تلاش کرنے کی بجائے اگر اپنے اندر تلاش کی جائے تو اس کا سراغ مل سکتا ہے ) ۔

In our envelope all of dust the jewel of life is lost; is it we, or Himself (O say), this pearl that is gone astray?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

درین چمن دل مرغان زمان زمان دگر است

بشاخ گل دگر است و به آشیان دگر است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 28

اگلی نظم

خواجه از خون رگ مزدور سازد لعل ناب

از جفای دهخدایان کشت دهقانان خراب

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 30

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دارم امید عاطفتی از جناب دوست

کردم جنایتی و امیدم به عفو اوست

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 59

لعل لب پیاله می آبدار ازوست

جوش صباحت گل روی بهار ازوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1947

خاور که آسمان بکمند خیال اوست

از خویشتن گسسته و بی سوز آرزوست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 47

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور