شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اندگراست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
درین چمن دل مرغان زمان زمان دگر است
بشاخ گل دگر است و به آشیان دگر است
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
In the heart of the birds, that range this garden, is ever change; ‘Tis one with the rose at breast, an other within the nest.
بخود نگر گله های جهان چه میگوئی
اگر نگاه تو دیگر شود جهان دگر است
دنیا کو سمجھنے کی بجائے اپنے اندر جھانک کر دیکھ اور خود کو پہچاننے کی کوشش کر ۔ دنیا کی شکایت کرنا چھوڑ دے ۔ اگر تیری نگاہ بدل جائے گی تو تیرا جہاں بھی تبدیل ہو جائے گا ۔
Look thou to thyself intent; of the world what cause to lament? There’s a different world to see, be there change of sight in thee.
به هر زمانه اگر چشم تو نکو نگرد
طریق میکده و شیوهٔ مغان دگر است
اگر تیری آنکھ میں ہر زمانے کا صحیح طور پر مشاہدہ کرنے کی اہلیت پیدا ہو جائے تو دیکھے گا کہ ہر زمانے میں مے خانے کا طریق کار اور شراب کشید کرنے والے کا شیوہ مختلف رہا ہے ۔
Each moment, if but thine eye regardeth attentively, changeth the tavern road and the Magian’s wonted mode.
به میر قافله از من دعا رسان و بگوی
اگرچه راه همان است کاروان دگر است
امیرِ کارواں کو میری طرف سے دعا و سلام پہنچا دے ۔ اور اس سے یہ کہہ کہ اگرچہ راستہ تو وہی ہے لیکن کارواں اور ہے ۔ (راستہ ہر دور میں ایک ہی ہوتا ہے البتہ مسافر بدلتے رہتے ہیں ۔ امیر کارواں کو چاہیے کہ وہ ان مسافروں کو نشانِ منزل کی طرف لے کر جائے) ۔
The caravan’s leader, greet with my blessing, and then repeat: ‘Though the way unchanged remain, ‘Tis a different caravan!’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور