صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 27

غزل شمارهٔ 27

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

عاشق آن نیست که لب گرم فغانی دارد

عاشق آنست که بر کف دو جهانی دارد

اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔

Never lover true is he who lamenteth dolefully; lover he, who in his bold hath the double world controlled.

2

عاشق آن است که تعمیر کند عالم خویش

در نسازد به جهانی که کرانی دارد

عاشق وہ ہے جو اپنی دنیا آپ تعمیر کرتا ہے اور دوسرے کے تعمیر کردہ دنیاؤں میں نہیں رہتا (دوسروں کا زیر دست نہیں ہوتا ) وہ ایسی دنیا سے تعلق نہیں رکھتا جس کی کوئی حد مقررر ہو ۔

Lover true is passionate Selfbood’s world to recreate, not content to be enfurled by a bounded, finite world.

3

دل بیدار ندادند به دانای فرنگ

این قدر هست که چشم نگرانی دارد

یورپ کے دانشوروں کو (کارکنان قضا و قدر نے) روشن دل نہیں دیا ۔ صرف اس قدر ہے کہ وہ چشم بینا رکھتے ہیں (جس سے وہ ستاروں کا مشاہدہ تو کر سکتے ہیں لیکن دلوں کے اندر نہیں جھانک سکتے) ۔

Wakeful heart was never given Europe’s scientist.by heaven; all that God has marked him by is the speculative eye.

4

عشق ناپید و خرد می گزدش صورت مار

گرچه در کاسهٔ زر لعل روانی دارد

اہل یورپ میں جذبہَ عشق کا فقدان ہے اور ان کی عقل انہیں سانپ کی طرح ڈس رہی ہے ۔ (وہ عقل سے کائنات کے اسرار تو سمجھ سکتے ہیں لیکن خدا کی معرفت سے دور ہیں ) اگرچہ وہ سونے کے جام میں لعل و جواہر کی طرح قیمتی اور چمکتی شراب رکھتے ہیں (عیش و عشرت کے سبھی لوازمات موجود ہیں ) لیکن ان کے دل معرفت الہٰی سے خالی ہیں ۔

Love he knows not, and the brain snake like bites into his vein, even though his golden cup flowing ruby filleth up.

5

درد من گیر که در میکدها پیدانیست

پیر مردی که می تند و جوانی دارد

مجھ سے پیالو ں سے بچی ہوئی تلجھٹ لے ( میں نے اپنی شاعری میں خود شناسی اور خدا شناسی کی جو بات کی ہے اسے سمجھنے کی کوشش کر) کیونکہ شراب خانوں میں ایسی شراب موجود نہیں ۔ جو میرے پاس ہے یہ شراب مجھ تک میرے اسلاف کے ذریعے پہنچی ہے ۔ اور ایسا ساقی تلاش کر جس کی شراب تیز اور تازہ ہے (معرفت الہٰی کے نشہ سے بھرپور ہو) ۔

Take the lees I give; for lo! In the taverns that I know aged vintner never more stands, the young, fierce wine to pour.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید

جلوه خون گشت و نگاهی بتماشا نرسید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 26

اگلی نظم

درین چمن دل مرغان زمان زمان دگر است

بشاخ گل دگر است و به آشیان دگر است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 28

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شاهد آن نیست که موییّ و میانی دارد

بندهٔ طلعتِ آن باش که آنی دارد

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 125

آن شکرخنده که پُرنوش دهانی دارد

نه دل من که دل خلقِ جهانی دارد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 174

هر کف خاک ز احسان تو جانی دارد

هر حبابی ز محیط تو جهانی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3320

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور