شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انرسید
صنف: غزل/قصیده/قطعه
سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید
جلوه خون گشت و نگاهی بتماشا نرسید
میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔
I uttered a new word, but there was none that heard; vision to rapture grew, but glance was none to view.
سنگ می باش و درین کارگه شیشه گذر
وای سنگی که صنم گشت و به مینا نرسید
پتھر ہو کر اس شیشے کے کارخانے (دنیا) سے گزر جا ۔ افسوس ہے اس پتھر پر جو بت تو بن گیا لیکن صراحی نہ بن سکا جس میں کم از کم شراب ڈال کر مے خواروں کو تو پلائی جاتی (بے کار شے سے کارآمد شے بہتر ہے) ۔
Be thou a stone, and pass within these works of glass; woe, stone to idol wrought that goblet shattered not!
کهنه را در شکن و باز به تعمیر خرام
هر که در ورطهٔ «لا» ماند به «الا‘ نرسید
پرانی چیزوں کو توڑ کر از سر نو تعمیر کا عمل شروع کر دے ۔ کیونکہ جو کوئی بھی لا (لا الہ یعنی کوئی معبود نہیں ) کے بھنور میں پھنس گیا وہ الا (الا اللہ یعنی اللہ معبود ہے) کے ساحل تک نہ پہنچا (پہلے تمام باطل معبودوں کی نفی کر کے ایک خدا کی ربوبیت کو تسلیم کرنا ہی مقصود فطرت ہے) ۔
Break down the old, and then rebuild the world again; who in ‘No God’ remained has ne’er ‘Except’ attained.
ایخوش آن جوی تنک مایه که از ذوق خودی
در دل خاک فرو رفت و بدریا نرسید
تھوڑے پانی والی وہ ندی کتنی خوش قسمت ہے کہ جو ذوق خودی کے بل بوتے پر مٹی دل میں تو چلی گئی لیکن دریا تک نہ پہنچی (اپنی انفرادیت اور خودی کے حصار میں رہی) ۔
O happy rivulet in selfhood passionate, who to earth’s heart dost flee and flowest not so sea!
از کلیمی سبق آموز که دانای فرنگ
جگر بحر شکافید و به سینا نرسید
کسی کلیم (اللہ سے ہم کلام ہونے والے) سے وہ سبق سیکھ (جو تجھے معرفت سے آشنا کر دے) کیونکہ یورپ کے دانشوروں علما اور سائنس دانوں نے سمندر کی گہرائیوں کو تو جانچ لیا لیکن وادی سینا تک نہیں پہنچ سکے(اہل یورپ کائنات کے راز تو جانتے ہیں لیکن معرفت حق سے نا آشنا ہیں ) ۔
To Moses’ lesson list; for Europe’s scientist though ocean’s depth he plumb, could ne’er to Sinai come.
عشق انداز تپیدن ز دل ما آموخت
شرر ماست که برجست و به پروانه رسید
عشق نے تڑپنے کا انداز ہمارے دل کی تڑپ سے سیکھا ۔ یہ ہمارے عشق ہی کی چنگاری ہے جو ہمارے دل سے نکلی اور پروانے تک پہنچی اور اسے بھی رموز ، عشق سے آگاہی کر دیا ۔
Love’s self learnt quivering’s art from this our trembling heart; our spark it was that spired until the moth expired.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور