صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 25

غزل شمارهٔ 25

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: انمبرید

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

لاله صحرایم از طرف خیابانم برید

در هوای دشت و کهسار و بیابانم برید

میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔

I am a blossom of the plain; carry me back from the avenue to mountain and wilderness again where air’s to breathe, and the vast to view.

2

روبهی آموختم از خویش دور افتاده ام

چاره پردازن به آغوش نیستانم برید

(عالم علوی) دنیا میں آ کر میں نے لومڑی کی عیاری و مکاری سیکھ لی ہے ۔ اور اپنے آپ کو بھول گیا ہوں ۔ اے چارہ گرو مجھے سرکنڈوں کے جنگل میں واپس لے جاوَ ۔

Far from self I have gone astray, learnt me the foxy and furtive wont; carry me, helpers of the way, back to the reeds, my ancient haunt.

3

در میان سینه حرفی داشتم گم کرده ام

گرچه پیرم پیش ملای دبستانم برید

میں اپنے سینے میں (را ز کی جو بات ) محفوظ رکھے ہوئے تھا اسے میں نے کھو دیا ہے (اپنے رب سے کیا ہوا وعدہ بھلا بیٹھا ہوں ) گرچہ میں تجربہ کار اور عمر رسیدہ ہو چکا ہوں اس کے باوجود میں ابھی تک اپنے خالق سے کیا ہوا وعدہ بھولا ہوا ہوں ۔ مجھے از سر نو مدرسہ کے ملا کے پاس لے جاوَ تا کہ وہ مجھے میرا بھولا ہوا سبق پھر سے یاد دلا دے ۔

Once I had a word in my heart; now it has vanished from my breast; though I am old, let me depart back to the school that taught me best.

4

ساز خاموشم نوای دیگری دارم هنوز

آنکه بازم پرده گرداند پی آنم برید

میری حیثیت ایک خاموش ساز جیسی ہے کیونکہ اس کے اپنے تاروں میں سے اپنے نغموں کی بجائے دوسروں کے نغمے نکل رہے ہیں ( میں اپنا اصل مقصد بھول گیا ہوں ) مجھے اس موسیقار کے حضور لے جاوَ جو مجھے پھر سے (نغمات سرمدی) سے آشنا کر دے ۔

I am a hushed and silent lute; now in my head is a new, sweet air; O let my strings be no longer mute, take me to him whom will repair.

5

در شب من آفتاب آن کهن داغی بس است

این چراغ زیر فانوس از شبستانم برید

میری سیاہ رات روشن کرنے کے لیے اسی پرانے (داغِ عشق) کے سورج کی روشنی کافی ہے ۔ فانوس میں رکھا یہ (عقل کا چراغ) میری رات کی بزم سے لے جاوَ (زندگی کی رات آفتاب عشق سے روشن ہوتی ہے عقل کے چراغ سے نہیں ) ۔

In this night that enshroudeth me sufficient sun is my ancient brand; take away from my dormitory the shuttered lamp that is in thy hand.

6

من که رمز شهریاری با غلامان گفته ام

بندهٔ تقصیر وارم پیش سلطانم برید

میں تو وہ ہوں کہ جس نے غلاموں کو بادشاہی کے اصول سمجھا دیے ہیں ۔ میں نے بادشاہ کے حضور گستاخی کی ہے ۔ مجھے اس کے پاس لے جاوَ ۔

Lo, to the slaves I have declared true kingship’s innermost mystery; I am a slave who greatly erred; to the king for judgement O carry me!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شراب میکدهٔ من نه یادگار جم است

فشردهٔ جگر من به شیشهٔ عجم است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 24

اگلی نظم

سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید

جلوه خون گشت و نگاهی بتماشا نرسید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 26

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور