صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 174

غزل شمارهٔ 174

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن که بر نسترن از غالیه خالی دارد

الحق آراسته خلقی و جمالی دارد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 173

اگلی نظم

بازت ندانم از سر پیمان ما که برد

باز از نگین عهد تو نقش وفا که برد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 175

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شاهد آن نیست که موییّ و میانی دارد

بندهٔ طلعتِ آن باش که آنی دارد

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 125

هر کف خاک ز احسان تو جانی دارد

هر حبابی ز محیط تو جهانی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3320

عاشق آن نیست که لب گرم فغانی دارد

عاشق آنست که بر کف دو جهانی دارد

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 27

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00