خواجه از خون رگ مزدور سازد لعل ناب
از جفای دهخدایان کشت دهقانان خراب
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
Of the hirelings’s blood outpoured, lustrous rubies makes the lord; tyrant squire to swell his wealth desolates the peasant’s tillth.
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
شیخ شهر از رشته تسبیح صد مؤمن به دام
کافران سادهدل را برهمن زنار تاب
شہر کے شیخ (عالم یا فقیہہ) کی تسبیح (دکھاوے کی عبادت) کے دھوکے میں آ کر سینکڑوں مومن اس کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ، اور سادہ دل کافروں کے لیے برہمن بھی زنار کا حربہ استعمال کرتا رہتا ہے (مذہبی پیشوا، ہر مذہب کے اپنے معصوم پیروکاروں کو بے تحاشا لوٹتے رہتے ہیں ) ۔ اس لیے ۔ زمانے کو بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
میر و سلطان نردباز و کعبتین شان دغل
جان محکومان ز تن بردند محکومان به خواب
امیر اور بادشاہ چوسر سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے کھیل کے پانسے دغل ہیں ۔ امرا ء اور حکمران کمزوروں ، بے کسوں اور محکوموں کو قابو میں لانے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں ۔ اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ انقلاب، اے انقلاب ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
واعظ اندر مسجد و فرزند او در مدرسه
آن به پیری کودکی این پیر در عهد شباب
واعظ نے مسجد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور اس کا بیٹا، مدرسے میں جدید علوم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔ وہ بڑھاپے میں ایک بچے کی طرح ہے اور بیٹا عین جوانی میں بوڑھا ہے ۔ (واعظ مسجد کی چار دیواری میں مقید ہے ۔ باہر کے حالات سے بے خبر ہے ) جبکہ بیٹا فرنگی علوم سیکھ کر دین سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ اس لیے، بدل دو ۔ سب کچھ الٹ دو ۔ تبدیلی ۔ اے تبدیلی ۔
Preacher’s at the mosque, his son to the kindergarten gone; grey-bird is a child, in truth, child a grey-bird, spite his youth.
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
ای مسلمانان فغان از فتنههای علم و فن
اهرمن اندر جهان ارزان و یزدان دیریاب
اے مسلمانو! عصر جدید کے علوم فنون کے فتنوں سے فریاد کرو (بچو) کیونکہ ان علوم کی وجہ سے شیطان سستا ہو گیا ہے اور خدا کا ملنا محال ہے ۔ اس لیے ۔ بدل دو ۔ سب کچھ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
شوخی باطل نگر اندر کمین حق نشست
شبپر از کوری شبیخونی زند بر آفتاب
اہلِ مغرب (کے علوم و فنون) کے باعث ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ باطل بھی شوخی میں آ کر حق کی گھات میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس کی مثال تو یہ ہے کہ آج چمگادڑ (باوجود اس بات کے کہ اسے دن کے وقت کچھ دکھائی نہیں دیتا) سورج پر شب خون مار رہی ہے ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
در کلیسا ابنمریم را به دار آویختند
مصطفی از کعبه هجرت کرده با امالکتاب
عیسائیوں نے (گرجا گھر) مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کو پھانسی چڑھا دیا(عیسائی اپنے مذہب سے دور ہو گئے) اور ادھر حضرت محمد ﷺ قرآن لے کر کعبہ سے چلے گئے (مسلمان اپنے دین سے بے خبر ہو گئے ۔ تہذب نو نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو گمراہ کر دیا ہے ۔ اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
من درون شیشههای عصر حاضر دیدهام
آنچنان زهری که از وی مارها در پیچ و تاب
میں نے موجودہ زمانے کے ساغروں میں ایسی زہریلی شراب دیکھی ہے کہ اس کے زہر کے اثر سے زہریلے سانپ بھی تڑپ رہے ہیں ۔ (دنیا کے میکدے میں غارت گر تہذیب شراب ملتی ہے ۔ جو سانپ کی طرح روح کو ڈس کر اسے مردہ کر دیتی ہے ۔ ) ۔ اس لیے، بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
با ضعیفان گاه نیروی پلنگان میدهند
شعلهای شاید برون آید ز فانوس حباب
(ان تمام حالات کے باوجود جن کا تذکرہ مذکورہ اشعار میں کیا جا چکا ہے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں ) کیونکہ بعض اوقات کارکنان قضا و قدر کمزور لوگوں کو شیروں جیسی قوت و ہمت عطا کر دیتے ہیں ۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ پانی کے بلبلے سے ایسا شعلہ نمودار ہو جو اپنی ضوفشانی سے نظامِ حیات کی تاریکیوں کو دور کر دے ۔ اس لیے، بدل دو ۔ سب کچھ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
Yet the weak are given at length lion’s heart and tiger’s strength; In this bubbling lantern, lo! Haply yet a flame will glow: Revolt, I cry! Revolt, defy! Revolt, or die!
انقلاب!
انقلاب ای انقلاب
Revolt, I cry! Revolt, defy! Revolt, or die!
زمین
باز برقع بر رخ چون ماه بربستی نقاب
گوییا در زیر ابری رفت ناگه آفتاب
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 109
ای تمامی خواب من برده ز چشم نیم خواب
وی سراسر تاب من برده ز زلف نیم تاب
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 118
بسکه دارد برق تیغت درگذشتنها شتاب
رنگ نخجیر تو میگردد ز پهلویکباب
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 337
تا از آن پای نگارین بوسهایکرد انتخاب
جام در موج شفق زد حلقهٔ چشم رکاب
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 338
تا نمیدزدد غبار غفلت هستی خطاب
بایدم از شرم این خاک پریشانگشت آب
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 339
میدهد دل را نفس آخر به سیل اضطراب
خانهٔ آیینهای داریم و می گردد خراب
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 343
میکنمگاهی به یاد مستی چشمت شتاب
تا قیامت میروم در سایهٔ مژگان به خواب
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 344
جامی ابنای زمان از قول حق صم اند و بکم
نام ایشان نیست عندالله به جز شرالدواب
جامیدیوان اشعارقطعاتشمارهٔ 2
آن یکی خواهد به شهوت زن که تا فرزند او
بعد مرگ از وی بماند در جهان نایب مناب
جامیدیوان اشعارقطعاتشمارهٔ 20
دی به حمام اندرون از فرق آن مه سرتراش
جمع می کرد آنچه می افکند در یک کاسه آب
جامیدیوان اشعارقطعاتشمارهٔ 50
فارسی متن کا ماخذ: گنجور