صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 30

غزل شمارهٔ 30

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اب

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 27

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خواجه از خون رگ مزدور سازد لعل ناب

از جفای دهخدایان کشت دهقانان خراب

سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

Of the hirelings’s blood outpoured, lustrous rubies makes the lord; tyrant squire to swell his wealth desolates the peasant’s tillth.

2

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

3

شیخ شهر از رشته تسبیح صد مؤمن به دام

کافران ساده‌دل را برهمن زنار تاب

شہر کے شیخ (عالم یا فقیہہ) کی تسبیح (دکھاوے کی عبادت) کے دھوکے میں آ کر سینکڑوں مومن اس کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ، اور سادہ دل کافروں کے لیے برہمن بھی زنار کا حربہ استعمال کرتا رہتا ہے (مذہبی پیشوا، ہر مذہب کے اپنے معصوم پیروکاروں کو بے تحاشا لوٹتے رہتے ہیں ) ۔ اس لیے ۔ زمانے کو بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

4

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

5

میر و سلطان نردباز و کعبتین شان دغل

جان محکومان ز تن بردند محکومان به خواب

امیر اور بادشاہ چوسر سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے کھیل کے پانسے دغل ہیں ۔ امرا ء اور حکمران کمزوروں ، بے کسوں اور محکوموں کو قابو میں لانے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں ۔ اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ انقلاب، اے انقلاب ۔

6

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

7

واعظ اندر مسجد و فرزند او در مدرسه

آن به پیری کودکی این پیر در عهد شباب

واعظ نے مسجد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور اس کا بیٹا، مدرسے میں جدید علوم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔ وہ بڑھاپے میں ایک بچے کی طرح ہے اور بیٹا عین جوانی میں بوڑھا ہے ۔ (واعظ مسجد کی چار دیواری میں مقید ہے ۔ باہر کے حالات سے بے خبر ہے ) جبکہ بیٹا فرنگی علوم سیکھ کر دین سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ اس لیے، بدل دو ۔ سب کچھ الٹ دو ۔ تبدیلی ۔ اے تبدیلی ۔

Preacher’s at the mosque, his son to the kindergarten gone; grey-bird is a child, in truth, child a grey-bird, spite his youth.

8

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

9

ای مسلمانان فغان از فتنه‌های علم و فن

اهرمن اندر جهان ارزان و یزدان دیریاب

اے مسلمانو! عصر جدید کے علوم فنون کے فتنوں سے فریاد کرو (بچو) کیونکہ ان علوم کی وجہ سے شیطان سستا ہو گیا ہے اور خدا کا ملنا محال ہے ۔ اس لیے ۔ بدل دو ۔ سب کچھ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

10

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

11

شوخی باطل نگر اندر کمین حق نشست

شب‌پر از کوری شبیخونی زند بر آفتاب

اہلِ مغرب (کے علوم و فنون) کے باعث ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ باطل بھی شوخی میں آ کر حق کی گھات میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس کی مثال تو یہ ہے کہ آج چمگادڑ (باوجود اس بات کے کہ اسے دن کے وقت کچھ دکھائی نہیں دیتا) سورج پر شب خون مار رہی ہے ۔

12

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

13

در کلیسا ابن‌مریم را به دار آویختند

مصطفی از کعبه هجرت کرده با ام‌الکتاب

عیسائیوں نے (گرجا گھر) مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کو پھانسی چڑھا دیا(عیسائی اپنے مذہب سے دور ہو گئے) اور ادھر حضرت محمد ﷺ قرآن لے کر کعبہ سے چلے گئے (مسلمان اپنے دین سے بے خبر ہو گئے ۔ تہذب نو نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو گمراہ کر دیا ہے ۔ اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

14

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

15

من درون شیشه‌های عصر حاضر دیده‌ام

آنچنان زهری که از وی مارها در پیچ و تاب

میں نے موجودہ زمانے کے ساغروں میں ایسی زہریلی شراب دیکھی ہے کہ اس کے زہر کے اثر سے زہریلے سانپ بھی تڑپ رہے ہیں ۔ (دنیا کے میکدے میں غارت گر تہذیب شراب ملتی ہے ۔ جو سانپ کی طرح روح کو ڈس کر اسے مردہ کر دیتی ہے ۔ ) ۔ اس لیے، بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

16

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

17

با ضعیفان گاه نیروی پلنگان می‌دهند

شعله‌ای شاید برون آید ز فانوس حباب

(ان تمام حالات کے باوجود جن کا تذکرہ مذکورہ اشعار میں کیا جا چکا ہے نا امید ہونے کی ضرورت نہیں ) کیونکہ بعض اوقات کارکنان قضا و قدر کمزور لوگوں کو شیروں جیسی قوت و ہمت عطا کر دیتے ہیں ۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ پانی کے بلبلے سے ایسا شعلہ نمودار ہو جو اپنی ضوفشانی سے نظامِ حیات کی تاریکیوں کو دور کر دے ۔ اس لیے، بدل دو ۔ سب کچھ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

Yet the weak are given at length lion’s heart and tiger’s strength; In this bubbling lantern, lo! Haply yet a flame will glow: Revolt, I cry! Revolt, defy! Revolt, or die!

18

انقلاب!

انقلاب ای انقلاب

Revolt, I cry! Revolt, defy! Revolt, or die!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ما از خدای گم شده‌ایم او به جستجوست

چون ما نیازمند و گرفتار آرزوست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 29

اگلی نظم

گرچه می دانم که روزی بی نقاب آید برون

تا نپنداری که جان از پیچ و تاب آید برون

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 31

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

باز برقع بر رخ چون ماه بربستی نقاب

گوییا در زیر ابری رفت ناگه آفتاب

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 109

ای تمامی خواب من برده ز چشم نیم خواب

وی سراسر تاب من برده ز زلف نیم تاب

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 118

بس‌که دارد برق تیغت درگذشتنها شتاب

رنگ نخجیر تو می‌گردد ز پهلوی‌کباب

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 337

تا از آن پای نگارین بوسه‌ای‌کرد انتخاب

جام در موج شفق زد حلقهٔ چشم رکاب

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 338

تا نمی‌دزدد غبار غفلت هستی خطاب

بایدم از شرم این خاک پریشان‌گشت آب

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 339

می‌دهد دل را نفس آخر به سیل اضطراب

خانهٔ آیینه‌ای داریم و می‌ گردد خراب

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 343

می‌کنم‌گاهی به یاد مستی چشمت شتاب

تا قیامت می‌روم در سایهٔ مژگان به خواب

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 344

جامی ابنای زمان از قول حق صم اند و بکم

نام ایشان نیست عندالله به جز شرالدواب

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 2

آن یکی خواهد به شهوت زن که تا فرزند او

بعد مرگ از وی بماند در جهان نایب مناب

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 20

دی به حمام اندرون از فرق آن مه سرتراش

جمع می کرد آنچه می افکند در یک کاسه آب

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 50

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور