گرچه می دانم که روزی بی نقاب آید برون
تا نپنداری که جان از پیچ و تاب آید برون
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
Although the soul, I know, one day unveiled shall be, think not it shall be so by writhing endlessly.
ضربتی باید که جان خفته برخیزد ز خاک
ناله کی بی زخمه از تار رباب آید برون
کوئی (عشق) کی ایسی ضرب چاہیے کہ جسمِ خاکی کے اندر خفتہ روح بیدار کر دے (ایسی ضرب کے لیے کسی مرد کامل کی نظر درکار ہو گی) کیونکہ مضراب لگائے بغیر رباب کے تاروں سے نالے کس طرح باہر آئیں گے ۔
It needs a blow, to stir the sleeping soul from earth unswept, the harp can ne’er bring melody to birth.
تاک خویش از گریه های نیمشب سیراب دار
کز درون او شعاع آفتاب آید برون
اپنی انگور کی بیل (اپنے وجود کو) آدھی رات کے وقت (یادِ محبوب) میں رو رو کر سیراب کر ۔ تاکہ اس میں سے شراب کی بجائے سورج کی شعاعیں نمودار ہوں (خفتہ صلاحتیں بیدا ہو جائیں ) ۔
Thy cup replenish still with tears and midnight sighs, replenish it until the radiant sun shall rise.
ذرهٔ بی مایه ئی ترسم که ناپیدا شوی
پخته تر کن خویش را تا آفتاب آید برون
تو (اے انسان) ایک بے قیمت ذرہ ہے ۔ مجھے خدشہ ہے تو فنا ہو جائے گا ۔ خود کو فنا سے بچانا ہے تو اپنے آپ میں قوت و توانائی پیدا کر تا کہ اس ذرہ سے سورج برآمد ہو ۔
So faint a mote thou art, I fear thou’lt vanish quite; then fortify thy heart to meet the morning light.
در گذر از خاک و خود را پیکر خاکی مگیر
چاک اگر در سینه ریزی ماهتاب آید برون
اپنی حیثیت کی شناخت کر اور خود کو مٹی کے جسم والا نہ سمجھ ۔ اگر تو اپنا سینہ چاک کرے (جذبہ عشق میں ) تو تیرے سینے سے چاند طلوع ہو گا ۔
Transcend the dust, nor take thy self but dust to be; if thou thy breast with break, the moon shall shine from thee.
گر بروی تو حریم خویش را در بسته اند
سر بسنگ آستان زن لعل ناب آید برون
اگر تجھ پر (محبوب نے) اپنے گھر کے دروازے بند کر دیے ہیں تو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ محبوب کی چوکھٹ پر اپنا سر ٹکرا دے اور پھر دیکھ خالص لعل باہر آ جائے گا ۔ درِ محبوب ہرگز نہ چھوڑ ۔ ایک نہ ایک دن محبوب کا دل پسیج جائے گا تو تیرے مقصد کا قیمتی لعل تجھے حاصل ہو جائے گا ۔
If in thy face they lock the gate to selfhood’s shrine, strike head upon the rock and see the ruby shine.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور