شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انهگذر
صنف: غزل/قصیده/قطعه
گشاده رو ز خوش و ناخوش زمانه گذر
ز گلشن و قفس و دام و آشیانه گذر
اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔
Whether the world be foul or fair, with a smile fare on; forth from the nest, the cage, the snare, the bower, be gone!
گرفتم اینکه غریبی و ره شناس نئی
بکوی دوست بانداز محرمانه گذر
مجھے معلوم ہے کہ تو یہاں اجنبی ہے اور تو راستوں سے بھی انجان ہے ۔ پھر بھی کوچہ محبوب سے اس طرح گزر جیسے کہ تو اسے اچھی طرح جانتا ہے ۔
Though stranger thou art, and dost not know how the way doth wend, in a bold, familiar manner go in the lane of the Friend.
بهر نفس که بر آری جهان دگرگون کن
درین رباط کهن صورت زمانه گذر
ہر وہ سانس جو تیرے سینہ سے باہر نکلتی ہے اس سے اس دنیا کی تقدیر بدل دے اور اس دنیا کی قدیم سرائے سے زمانے کی مانند گزر جا ۔ اسی طرح تو بھی اپنے عمل سے دنیا میں انقلاب برپا کر دے ۔
Each breath that thou drawest, differently the world adorn; within this ancient hostelry swift as Time be borne.
اگر عنان تو جبریل و حور می گیرند
کرشمه بر دلشان ریز و دلبرانه گذر
اگر تیرے گھوڑے کی باگ جبریل فرشتہ اور جنت کی حوریں بھی پکڑ لیں تو پھر بھی ان کی طرف توجہ نہ کر ۔ اور منزل مقصود کی طرف مسلسل سفر جاری رکھ اور اپنے ناز و ادا کی جھلک ڈا ل کر محبوبانہ اندا زسے گزر جا ۔
If Gabriel lay his hand on thy rein, and the Houris, too, with a loving glance pass on again as fair charmers do.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور