شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اختناست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
زندگی در صدف خویش گهر ساختن است
در دل شعله فرو رفتن و نگداختن است
زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔
What is this life? A pearl in thy own shell to bear, in the flame’s heart to hurl thyself, nor melt to air.
عشق ازین گنبد در بسته برون تاختن است
شیشهٔ ماه ز طاق فلک انداختن است
عشق تو اس بند گنبد یعنی آسمان کی وسعتوں سے باہر نکل جانے کا عمل ہے ۔ عشق تو آسمان کے طاق سے کھڑکی سے چاند کا پیالہ لے کر نیچے پھینک دیتا ہے (اس کی حکمرانی زمان و مکان پر چھائی ہوئی ہے) ۔
Love is with speed to pass out of this shuttered sphere, to cast the moon’s bright glass high over heaven clear.
سلطنت نقد دل و دین ز کف انداختن است
به یکی داد جهان بردن و جان باختن است
سلطنت ایسی چیز ہے کہ دین اور دل دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں ۔ ایک ہی داوَ میں جہاں فتح کر لینا اور ہار دینا ہے ۔ (اگر ملوکیت ہو تو دین ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور دنیا کی آسائشیں میسر ہوتی ہیں )جبکہ خلافت میں دین اور دنیا دونوں قائم رہتے ہیں ۔
Power is from hand to fling the cash of heart and faith: To rule the world, a king, and brave the chance of death.
حکمت و فلسفه را همت مردی باید
تیغ اندیشه بروی دو جهان آختن است
حکمت اور فلسفہ کے لیے کسی (مردِ کامل) کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ فکر کی تلوار دونوں جہانوں پر کھینچتا ہے ۔
Philosophy is taught by manly zeal alone, to whet the blade of thought upon the world for stone.
مذهب زنده دلان خواب پریشانی نیست
از همین خاک جهان دگری ساختن است
زندہ دلوں کا مذہب کوئی پریشان خواب نہیں ہے ۔ ان کا مذہب تو اس مٹی سے ایک اور نیا جہان پیدا کرتا ہے (زندہ دل اپنی دنیا خود بساتے ہیں وہ دوسروں کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوتے) ۔
The living spirit’s trust is no disordered dream, but of this scattered dust to build a braver scheme.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور