صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 34

غزل شمارهٔ 34

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: اهی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

برون زین گنبد در بسته پیدا کرده ام راهی

که از اندیشه برتر می پرد آه سحر گاهی

میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔

Beyond heaven’s shuttered dome I have found a way to come where swifter than thought may fly the breath of a morning sigh.

2

تو ای شاهین نشیمن در چمن کردی از آن ترسم

هوای او ببال تو دهد پرواز کوتاهی

(اے شاہین) تو نے اپنا نشیمن چمن میں بنا لیا ہے(شاہین کی سخت کوشی اور بلند پروازی ترک کر کے آرام طلبی اختیار کر لی ہے یہ بات شاہین کی فطرت کے خلاف ہے ) اس چمن کی ہوا تیرے بازووَں کو کم بلندی پر اڑانے والی پرواز عطا کر دے گی ۔

Falcon thou art, and hast made thy nest in the grassy glade, and? Its air, I am fearful, might foreshorten thy pinion’s flight.

3

غباری گشته ئی آسوده نتوان زیستن اینجا

بباد صبحدم در پیچ و منشین بر سر راهی

اے مسلمان کیا تو راستے کی گرد بن گیا ہے اگر ایسی بات ہے تو اس جگہ آرام کہاں صبح کی تازہ ہوا میں لپٹ اور راستے میں نہ بیٹھ (تجھے کندن بننے کے لیے راہ عمل اختیار کرنا ہو گی) ۔

Art thou dust become? It is clear thou canst not be resting here; on the breeze of the morning ride, sit not by the roadway side.

4

ز جوی کهکشان بگذر ز نیل آسمان بگذر

ز منزل دل بمیرد گرچه باشد منزل ماهی

آرام طلبی سے زندگی بے کیف ہو جاتی ہے ۔ اگر زندہ رہنا ہے تو کہکشاں کی ندی سے گزر جا اور آسمان کے نیلے سمندر سے بھی گزر جا ۔ کیونکہ زندگی چلتے رہنے کا نام ہے ۔

From the stream of the stars arise and cross the Nile of the skies; for the heart must die right soon if it lodge, though it be in the moon.

5

اگر زان برق بی پروا درون او تهی گردد

به چشمم کوه سینا می نیرزد با پرکاهی

اگر اس بے نیا زبجلی سے (جو اللہ نے حضرت موسیٰ اور کوہ طور پر پھینکی تھی) کوہ طور کا سینہ خالی ہو جائے تو میری نظروں میں کوہ سینا کی حیثیت ایک پیرکاہ (تنکے) کے برابر بھی نہیں ۔

Let its breast no longer beam with the rockless lightning’s gleam, less worth than a straw reckon I the mountain of Sinai.

6

چسان آداب محفل را نگه دارند و می سوزند

مپرس از ما شهیدان نگاه بر سر راهی

نگاہ کے شہید کس طرح محفل کے آداب نگاہ میں رکھتے ہیں اور کس طرح پروانے کی طرح شمع پر جلنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں ۔ یہ بات سرِ راہ نگاہوں کے شہیدوں سے مت پوچھ ۔

How men may the manners keep of the throng, yet consuming leap ask not of us, whom the gaze of the passing fair one slays.

7

پس از من شعر من خوانند و دریابند و میگویند

جهانی را دگرگون کرد یک مرد خود آگاهی

جب لوگ میرے اشعار پڑھیں گے انہیں سمجھیں گے اور پھر یہ کہیں گے کہ ایک خود آگاہ مردِ قلندر نے دنیا کو تہ و بالا کر دیا ہے (اپنی شاعری سے لوگوں میں انقلاب کی فکر پیدا کر دی ہے) ۔

When I am dead, this may lay men will recite, and say: ‘One man, who was self-aware, transformed a world everywhere’.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زندگی در صدف خویش گهر ساختن است

در دل شعله فرو رفتن و نگداختن است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 33

اگلی نظم

گنه‌کار غیورم مزد بی‌خدمت نمی‌گیرم

از آن داغم که بر تقدیر او بستند تقصیرم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 35

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به طبع مقبلان یارب‌کدورت را مده راهی

براین ‌آیینه‌ها مپسند زنگ تهمت آهی

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2793

در دل زد خیال پرتو مهرت سحرگاهی

چراغان فلک چون صبح کردم خامش از آهی

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2795

به فکرت خواستم کز سر وحدت یابم آگاهی

خطاب آمد که از پیر مغان خواه آنچه می خواهی

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 970

الا ای نقش کشمیری الا ای حور خرگاهی

به دل‌سنگی به برسیمی به قدسروی به رخ‌ماهی

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 430

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور