گنهکار غیورم مزد بیخدمت نمیگیرم
از آن داغم که بر تقدیر او بستند تقصیرم
میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔
A sinner proud am I; no need I take, except I work for it; I rage, because men say He writ predestinate my wilful deed.
ز فیض عشق و مستی بردهام اندیشه را آنجا
که از دنباله چشم مهر عالمتاب میگیرم
عشق و مستی کے فیض سے میں اپنی فکر اس مقام تک لے گیا ہوں کہ میں جہاں کو روشن کرنے والے سورج کے پیچھے جا کر اس کی روشن آنکھ بند کر دیتا ہوں ۔
The surge of drunkenness and love hath lifted up my thoughts, to where the world-illuming sun doth stare amazed upon me as I rove.
من از صبح نخستین نقشبند موج و گردابم
چو بحر آسوده میگردد ز طوفان چاره برگیرم
میں روز ازل سے موج اور بھنور کے نقش بنا رہا ہوں (میرا وجود ابتدائے آفرینش ہی سے کائنات میں شور برپا کئے ہوئے ہے) جب کبھی زندگی کے سمندر میں سکون آنے لگتا ہے تو میں طوفانِ عشق سے اس میں ہلچل مچا دیتا ہوں ۔
From the first dawn my hand was made artist of whirlpool and wavecrest, and when the ocean lies at rest of the typhoon I gather aid.
جهان را پیش ازین صد بار آتش زیر پا کردم
سکون و عافیت را پاک میسوزد بم و زیرم
اس سے پہلے میں نے (اپنے عشق سے) اس جہان کو سینکڑوں بار بے قرار کیا ہے ۔ میرے عشق کا زیر و بم سکون و آرام کو یکسر جلا دیتا ہے ۔
A hundred times before this day I set the universe afire; its peace and health destroys entire the ardent music that I play.
از آن پیش بتان رقصیدم و زنار بربستم
که شیخ شهر مرد باخدا گردد ز تکفیرم
میں نے بتوں کے روبرو اس لیے رقص کیا اور برہمنوں کا زنار پہنا کہ شاید میرے اس گناہ سے فقیہہ شہر خدا پر ایمان لے آئے (میرے اس کفر سے مجھ پر فتوے لگانے والا شیخ شاید اپنے طرز عمل کو تبدیل کر لے) اور دوسرے کے عیب نکالنے کی بجائے اپنی اصلاح کر لے ۔
Before the idols I have danced and bound the girdle about me, till, thundering at my blasphemy, the city sheikh is God-entranced!
زمانی رم کنند از من زمانی با من آمیزند
درین صحرا نمیدانند صیادم که نخچیرم
(لوگوں کی کیفیت یہ ہے) کہ کسی وقت تو مجھ سے دور بھاگتے ہیں اور کسی وقت مجھ سے میل جو بڑھا لیتے ہیں ۔ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ میں اس دنیا میں شکار ہو کہ شکاری ( میں ان کا خیر خواہ ہوں یا بدخواہ) ۔
Anon they leap from me away, anon they follow in my train, for no man knoweth in this plain whether I hunter am, or prey.
دل بیسوز کم گیرد نصیب از صحبت مردی
مس تابیدهای آور که گیرد در تو اکسیرم
جس شخص کا دل سوز سے خالی ہو وہ مردِ خدا کی صحبت سے فیض یاب نہیں ہوتا ۔ چمکدار پیتل میرے پاس لے آ کہ میری اکسیر کے عمل سے یہ کندن بن جائے ۔
Of Supermen’s society naught gains the heart that’s not aglow: Bring me thy molten brass and, lo! My elixir shall work in thee.
زمین
چه نیرنگست یارب در تماشاگاه تسخیرم
که آواز پر طاووس میآید به زنجیرم
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 2178
نمیباشد تهی یک پرده از آهنگ تسخیرم
زهستی تا عدم پیچیده است آواز زنجیرم
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 2180
چو آنم دسترس نبود که روزی دامنش گیرم
روم باری به حسرت زیر بار توسنش میرم
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 597
از آن چون زلف ماتم دیدگان ژولیده زنجیرم
که چون برگ خزان دیده است روز دست تدبیرم
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 5552
فارسی متن کا ماخذ: گنجور