صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 36

غزل شمارهٔ 36

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: لافتاداست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

جهان کورست و از آئینهٔ دل غافل افتاد است

ولی چشمی که بینا شد نگاهش بر دل افتاد است

یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔

The world had lost its sight and the glass of the heart forsook, but an eye now sees the light that into the heart can look.

2

شب تاریک و راه پیچ پیچ و بی یقین راهی

دلیل کاروان را مشکل اندر مشکل افتاد است

اندھیری رات ہے اور راستہ پیچیدہ ہے اور اس راستہ پر چلنے والا دورِ حاضر کا مسلمان یقین کی دولت سے محروم ہے ۔ امیرِ کارواں کے لیے ایسے بے یقین مسافر کو پیچیدہ راستوں سے منزلِ مقصود تک لے جانا بہت مشکل ہے ۔

Dark is the night, twists the road, all faithless the wayfarers; and the caravan’s guide what load of problems oppressive bears!

3

رقیب خام سودا مست و عاشق مست و قاصد مست

که حرف دلبران دارای چندین محمل افتاد است

ناقص عشق والا رقیب مست ہے، عاشق مست ہے ۔ اور قاصد بھی مستی کی کیفیت میں ہے یہ تینوں اس لیے مست ہیں کہ مجبوریوں کی تحریر کئی کجاوے رکھتی ہے ۔ کئی پہلو رکھتی ہے ہر کوئی محبوب کی بات سے اپنے مطلب کی بات نکال رہا ہے اور اسی میں مست ہے ۔

Raqib-e-khaam souda must-o-ashiq must-o-qasid must; Drunk are the feckless spy, the lover, the messenger; so the words of the sweethearts lie in how many loads to wear.

4

یقین مؤمنی دارد گمان کافری دارد

چه تدبیر ای مسلمانان که کارم با دل افتاد است

(دورِ جدید کی تہذیب، ثقافت اور علم و دانش کی وجہ سے ) میرا دل کبھی مومن کی طرح پختہ ایمان رکھتا ہے اور کبھی کافر کی طرح بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اے مسلمانو مجھے بتاوَ میں کیا تدبیر کروں کہ بے یقینی کی حالت سے نکل کر تمہارے جیسا بن جاؤں کیونکہ میرا واسطہ ایسے دل سے آ پڑا ہے جو بے یقینی کا شکار ہے ۔

Its faith of believer true, its doubt of the infidel – O Muslims, what shall I do with the heart that in me doth dwell?

5

گهی باشد که کار ناخدائی میکند طوفان

که از طغیان موجی کشتیم بر ساحل افتاد است

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طوفان بھی کشتی کو ساحل تک پہنچانے کا کام کر دیتا ہے کہ سمندر کی لہروں کے ایک تلاطم نے میری کشتی کو بھی ساحل پر پھینک دیا ہے ۔ بعض اوقات ناموافق حالات سے بھی زندگی سنور جاتی ہے ۔

Sometimes the helmsman’s skill the storm doth display, and more! Lo, the waves, impetuous will hath cast our craft on the shore.

6

نمیدانم که داد این چشم بینا موج دریا را

گهر در سینهٔ دریا خزف بر ساحل افتاد است

میں اس بات سے بے خبر ہوں کہ دریا کی موجوں کو چشم بینا پرکھنے والی آنکھ کس نے بخشی ہے کہ موتیوں کو تو بحفاظت اپنی تہ میں رکھتی ہے اور ٹھیکریوں کو کنارے پر پھینک دیتی ہے (دنیا کی ہر چیز فطرت کے احکامات کے تحت کام کر رہی ہے) ۔

Who fashioned these seeing eyes in the wave, far in ocean lost, that the pearl in the sea’s heart lies, and the potsherd breaks on the coast?

7

نصیبی نیست از سوز درونم مرز و بومم را

زدم اکسیر را بر خاک صحرا باطل افتاد است

میرے اندر جو سوزِ عشق موجود ہے وہ میری کھیتی (میرے مخاطب لوگوں کو) نصیب میں نہیں ۔ (عوام الناس نے میرے پیغام کو بے کار سمجھا ہے ۔ ) میں نے صحرا کی مٹی میں اکسیر کا کام کیا (اپنے پیغام کا بیج بویا لیکن سب بے کار گیا ۔

No part of my soul’s unrest hath stirred in my Native land; with my magic I tried my best, it was lost on the desert sand.

8

اگر در دل جهانی تازه ئی داری برون آور

که افرنگ از جراحتهای پنهان بسمل افتاد است

اگر تیرے دل میں کوئی نیا جہان ہے (نئے افکار و خیالات ) ہیں تو ان سے کوئی ایسا علاج دریافت کر جو عہد حاضر کا زخم خوردہ لوگوں کے زخموں کا مداوا کر سکے ۔ کیونکہ اہلِ یورپ کے پاس ان کا کوئی علاج نہیں ۔ وہ تو خود زخمی پڑے ہیں (یورپ نے مختلف نظام ہائے زندگی کو آزما لیا ہے ۔ اب تیرے مسلمان کے پاس ہی وہ حتمی علاج موجود ہے ۔ وہ ساری دنیا کو عطا کر دے ۔

If a New World thou hast in thy bosom, declare thy faith! Wounded in heart and breast, Europe is nigh to death.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گنه‌کار غیورم مزد بی‌خدمت نمی‌گیرم

از آن داغم که بر تقدیر او بستند تقصیرم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 35

اگلی نظم

نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را

بخود گم شو نگه دار آبروی عشق بازی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 37

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور