نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را
بخود گم شو نگه دار آبروی عشق بازی را
تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔
No friend in the world entire thou wilt find sincere in solicitude go, lose thyself in thy self, and mind the honour of loverhood.
من از کار آفرین داغم که با این ذوق پیدائی
ز ما پوشیده دارد شیوه های کار سازی را
مجھے اس کائنات کے منتظم اعلیٰ خالق کائنات سے یہ شکایت ہے کہ وہ اپنی نمود اور ظہور کے اس قدر ذوق کے باوجود ہم سے اپنے کام کرنے کے انداز پوشیدہ رکھتا ہے ۔
I am grieved, that He Who created us in rapture to be displayed hath concealed the infinite various manners of that His trade.
کسی این معنی نازک نداند جز ایاز اینجا
که مهر غزنوی افزون کند درد ایازی را
یہ نازک معنی ایاز کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ غز نوی کی محبت ایاز کے درد اور بڑھا دیتی ہے (خالق کائنات کی قربت سے بندے کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں ) ۔
None but Ayaz alone doth know this subtle and secret truth, how the Ghaznavid’s love augmented so his poor slave’s anguish and ruth.
من آن علم و فراست با پر کاهی نمیگیرم
که از تیغ و سپر بیگانه سازد مرد غازی را
میری نظر میں اس علم و حکمت کی قیمت گھاس کے ایک تنکے کے برابر بھی نہیں جو مردِ غازی کو اس کی تلوار اور ڈھال (عمل جہاد) سے بے خبر کر دے ۔
Less than a grassblade, in my view, the knowledge and vision vast that the trusty sword and the buckler true from the hand of the warrior cast.
بهر نرخی که این کالا بگیری سود مند افتد
بزور بازوی حیدر بده ادراک رازی را
جس بھاوَ سے بھی تو یہ سودا خریدتا ہے تیرے لیے سودمند ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی قوتِ بازو کے عوض فخر الدین رازی جیسی فہم و فراست چھوڑ دے ۔ (ایسا علم کس کام کا جو مسلمان کو عملِ جہاد سے روک دے) ۔
Whatever the price of these goods, ‘tis well And profit will yield, not harm, Razi’s intelligence to sell for the power of Haider’s arm.
اگر یک قطره خون داری اگر مشت پری داری
بیا من با تو آموزم طریق شاهبازی را
اگر تو خون کا ایک قطرہ رکھتا ہے اور اگر تو پروں کی مٹھی رکھتا ہے ہمت پرواز بھی ہے تو میرے پاس آ ۔ میں تجھے شاہبازی (دنیا پر حکمرانی کے اصول) سمجھا دوں گا ۔
If there is a drop of blood in thy vein, a flutter to storm the height, come, learn with me the way to attain the falcon’s ascending flight.
اگر این کار را کار نفس دانی چه نادانی
دم شمشیر اندر سینه باید نی نوازی را
اور اگر تو اس کام زندگی گزارنا کو سانس کا کام سمجھتا ہے تو یہ تیری کیسی نادانی ہے بانسری بجانے کے لیے عام سانس کی نہیں تلوار کے دم طاقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس طرح بانسری بجانے کے لیے صرف سانس پھونکنا ہی کافی نہیں اس کے لیے سینے میں قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح عملی زندگی میں جان قربان کر دینے کی تمنا کرنا ہی کافی نہیں ۔
If fluting thou thinkst is but taking breath, how little truth thou hast guessed; the minstrel his skill accomplisheth with the point of the sword in his breast!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور