صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 38

غزل شمارهٔ 38

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: اهینیست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

علمی که تو آموزی مشتاق نگاهی نیست

واماندهٔ راهی هست آوارهٔ راهی نیست

جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔

The fine science thou dost learn after vision does not yearn; ‘tis no wanderer far astray, but a straggler on the way.

2

آدم که ضمیر او نقش دو جهان ریزد

با لذت آهی هست بی لذت آهی نیست

وہ آدمی جس کا ضمیر دونوں جہانوں کا مصور ہے کا یہ عمل آہ لذت عشق کی بدولت ہے ۔ آہ کی لذت کے بغیر نہیں ۔

He, whose all-embracing brain a new universe doth plan burneth still with passion’s fire, never lacketh high desire.

3

هر چند که عشق او آوارهٔ راهی کرد

داغی که جگر سوزد در سینهٔ ماهی نیست

مانا کہ اس کے محبوب کے عشق نے اسے راہوں میں بھٹکنا سکھا دیا ہے لیکن وہ داغ جو جگر کو جلا دے چاند کے سینے میں موجود نہیں ۔ اگرچہ چاند بھی فلک کی وسعتوں میں آوارہ پھرتا ہے لیکن اس کی یہ آوارگی منزل کی تمنا کے لیے نہیں ۔ یہ داغ آوارگی صرف انسان کو نصیب ہوا ہے) ۔

Though Love made the moon to err on the road a wayfarer, never blazeth in its breast the vast furnace of unrest.

4

من چشم نه بردارم از روی نگارینش

آن مست تغافل را توفیق نگاهی نیست

میں اپنے محبوب کے دلکش اور خوبصورت چہرے سے نظریں نہیں ہٹاتا ۔ لیکن اپنے حسن میں مگن اس محبوب کو ہم پر ایک نگاہ ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں ۔

So His beauty doth entrance, I can never lift my glance from His Face, who heedlessly doth not a glance spare for me.

5

اقبال قبا پوشد در کار جهان کوشد

دریاب که درویشی با دلق و کلاهی نیست

اقبال چغہ پہن کر بھی دنیا کے کاموں میں مصروف رہتا ہے ۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ درویشی بوریا نشینی سے اور فقیری ٹوپی پہننے سے نہیں آتی ۔ درویشی لباس کی درستگی کا نام نہیں دل کی صفائی کا نام ہے ۔

See, Iqbal in manly clothes to his worldly labour goes; proving that his dervishood ne’er depends on gown and hood.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را

بخود گم شو نگه دار آبروی عشق بازی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 37

اگلی نظم

چو خورشید سحر پیدا نگاهی می توان کردن

همین خاک سیه را جلوه گاهی میتوان کردن

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 39

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور