شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: اهیمیتوانکردن
صنف: غزل/قصیده/قطعه
چو خورشید سحر پیدا نگاهی می توان کردن
همین خاک سیه را جلوه گاهی میتوان کردن
صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔
Vision can be won as of morning sun, making this dark clay radiant as day.
نگاه خویش را از نوک سوزن تیز تر گردان
چو جوهر در دل آئینه راهی میتوان کردن
اپنی نگاہ کو سوئی کی نوک سے زیادہ تیز بنا ۔ اور جوہر کی طرح آئینہ کے دل میں راہ پیدا کی جا سکتی ہے ۔ (جس طرح آئینہ اپنے جوہر کے باعث چمکتا ہے اسی طرح نگاہِ حق شناس کی تیز روشنی بھی دلوں کو منو رکر دیتی ہے) ۔
Let thy vision be needle-sharp in thee, like its lustre pass thro’ the heart o’ the glass.
درین گلشن که بر مرغ چمن راه فغان تنگ است
بانداز گشود غنچه آهی می توان کردن
اس چمن میں جہاں مرغانِ چمن پر آ ہ و زاری کی پابندی ہے اس انداز سے آہ و زاری کی جا سکتی ہے ۔ جس انداز سے کہ غنچہ آہ کھینچ کر پھول بن جاتا ہے ۔
In this garden, where hushed is warbler’s air, as each bursting bud chant thy tragic mode.
نه این عالم حجاب او را نه آن عالم نقاب او را
اگر تاب نظر داری نگاهی میتوان کردن
وہ محبوب ایسا ہے کہ اس کی جلوہ گری ہر جگہ ہے نہ یہ دنیا اس کے لیے پردہ ہے اور نہ مستقبل کا جہاں اسے زیر نقاب رکھے گا ۔
Earth hides not His grace, heav’n veils not His face thou may’st view, for sure’, if thou canst endure.
« تو در زیر درختان همچو طفلان آشیان بینی»
به پرواز آکه صید مهر و ماهی میتوان کردن
تو ننھے بچوں کی طرح درختوں کے نیچے (کھڑا ہو کر پرندوں کا) گھونسلہ دیکھے جا رہا ہے ۔ اس سے کچھ فائدہ نہ ہو گا ۔ پرواز کی طاقت پیدا کر کہ چاند اور سورج کو بھی شکار کیا جا سکتا ہے ۔
Childlike watchest thou nests beneath the bough; mount on wings, and soon hunt the sun and moon!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور