دل دیده ئی که دارم همه لذت نظاره
چه گنه اگر تراشم صنمی ز سنگ خاره
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?
تو به جلوه در نقابی که نگاه بر نتابی
مه من اگر ننالم تو بگو دگر چه چاره
اے خدا! سامنے ہونے کے باوجود پوشیدہ ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تو ہمارے ذوقِ نظارہ کی تاب نہیں لا سکتا ۔ اے میرے چاند ایسی صورت میں جبکہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں تو میری نگاہوں سے اوجھل ہے ۔ میں اگر آہ و زاری کروں یا نہ کروں تو میرے لیے اس کے علاوہ اب اور چارہ ہی کیا (محبوب جلوہ کناں اس لیے ہے کہ کائنات کے ہر ذرے میں موجود ہے اور پوشیدہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہماری ظاہری نظروں سے اوجھل ہے) ۔
For all Your manifest glory You are veiled – You cannot suffer looks! Tell me, my moon, what is my recourse other than lament?
چه شود اگر خرامی به سرای کاروانی
که متاع ناروانش دلکی است پاره پاره
اے محبوب وہ کیا منظر ہو گا جب تو اس کارواں سرائے میں خود چل کر آ جائے ۔ جس کی بے کار دولت ایک ٹکڑے ٹکڑے چھوٹا سا دل ہے ۔ مطلب یہ کہ عاشق کے پاس ٹوٹے پھوٹے دل کی دولت کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اگر اس تہی دامن عاشق کی طرف محبوب توجہ کرے گا تو اس کے بگڑے کام سنور جائیں گے ۔
What harm would come if You strolled by the lodgings of a caravan, whose only unworthy possession is a little, broken heart?
غزلی زدم که شاید به نوا قرارم آید
تب شعله کم نگردد ز گسستن شراره
میں نے تو غزل اس لیے چھیڑی تھی کہ شاید اس طرح فریاد کرنے سے میرے بے قرار دل کو چین نصیب ہو جائے لیکن ایک چنگاری کے نکل جانے سے شعلے کی حرارت و تپش پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
I sang out a ghazal, hoping that expression would bring relief – the flame does not die down with one spark breaking off.
دل زنده ئی که دادی به حجاب در نسازد
نگهی بده که بیند شرری بسنگ خاره
تو نے مجھے جو زندہ دل دیا ہے اسے تیرا پردے میں رہنا گوارا نہیں ہے ۔ وہ تو تجھے اپنے سامنے صاف صاف دیکھنا چاہتا ہے ۔ اگر تو مجھے اپنا جلوہ دکھانا نہیں چاہتا تو پھر مجھے ایسی نگاہ بخش دے جو سخت پتھر کے اندر پوشیدہ شرارے کو بھی دیکھ لے ۔
The living heart You gave me is ill at ease with veils – give me an eye that will see the fire in the rock.
همه پارهٔ دلم را ز سرور او نصیبی
غم خود چسان نهادی به دل هزار پاره
میرے دل کا ہر ٹکڑا (محبوب کی شراب عشق) کے سرور سے اپنا نصیب بناتا ہے ۔ میں حیران ہوں کہ اے خدا تو نے اپنے عشق کا غم ہزار ٹکڑوں میں تقسیم اس دل میں کس طرح رکھ دیا ۔
Every piece of my heart shares in the joy it gives – how did You vest Your sorrow in a heart of a thousand pieces?
نکشد سفینه کس به یمی بلند موجی
خطری که عشق بیند بسلامت کناره
کسی کی کشتی بلند و بالا موجوں والے سمندر میں وہ خطرہ نہیں دیکھتی جو خطرہ اسے عشق کے سمندر کے کنارے کی سلامتی میں نظر آتا ہے ۔
High waves never wrecked anyone’s boat in the sea; the danger that love sees lies in the safety of the shore.
به شکوه بی نیازی ز خدایگان گذشتم
صفت مه تمامی که گذشت بر ستاره
میں اپنی بے نیازی کے باعث اس دنیا کے خداؤں سے بے پرواہ رہا ۔ چودھویں رات کے چاند کی طرح جو ستاروں کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے میں بھی دنیاوی جاہ و جلال ، دولت اقتدار اور حرص جیسے خداؤں سے بچ کر گزر گیا ۔
With a stately disregard I passed by the lords of the world – like a full moon passing by the stars.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور