صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 9

غزل شمارهٔ 9

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: یزاست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

نوای من از آن پر سوز و بیباک و غم انگیزست

بخاشاکم شرار افتاد و باد صبحدم تیز است

میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔

A flame is in my minstrelsy, a fearlessness, a tragedy; a spark is smouldering in my corn, and sprightly blows the breath of morn.

2

ندارد عشق سامانی ولیکن تیشه ئی دارد

خراشد سینهٔ کهسار و پاک از خون پرویز است

عشق کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتا لیکن وہ ایسا تیشہ ضرور رکھتا ہے جس سے پہاڑ کا سینہ چیر دے ۔ لیکن پرویز کے خون سے بھی پاک رہتا ہے ۔ اس شعر میں شاعر نے شیریں اور فرہاد کی خوبصورت تلمیح کا استعمال کر کے بتایا ہے کہ جس طرح فرہاد نے شیریں کو حاصل کرنے کے لیے پہاڑ سے دودھ کی نہر نکالنے کی شرط منظور کر لی تھی اور بادشاہ خسرو پرویز کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔ اسی طرح سچا عشق بھی اپنے پاس کوئی ایسا سامان نہیں رکھتا جس سے کسی کو نقصان کا اندیشہ ہو ۔

Love keeps no state, no manner grand and yet an axe is in Love’s hand wherewith the mountain’s heart is hued all innocent of Parviz’ blood.

3

مرا در دل خلید این نکته از مرد ادا دانی

ز معشوقان نگه کاری تر از حرف دلاویز است

ایک مردِ رمز شناس کی بات میرے دل میں چبھ گئی ہے وہ یہ کہ معشوق کی نظر کسی کا دل لبھانے والے بول سے زیادہ اثر آفریں ہوتی ہے (مردِ رمز شناس سے مراد کامل مرد ہے جس کی نگاہ مٹی کو سونے میں تبدیل کر سکتی ہے) ۔

It pricked my heart, this subtlety an orator once told to me: ‘The loved one’s glance hath more to teach than all the wizardry of speech.’

4

به بالینم بیا ، یکدم نشین ، کز درد مهجوری

تهی پیمانه بزم ترا پیمانه لبریز است

اے میرے محبوب میرے سرہانے آ کر بیٹھ جا کیونکہ تیرے غم ہجر کی وجہ سے تیری محفل میں خالی جام رکھنے والا یعنی تیری شراب وصل سے محروم تیرا یہ عاشق اپنی زندگی کا جام بھر چکا ہے یعنی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔

Come to my pillow once again; sit for one moment; for the pain of separation wracks my soul, my cup of loneliness is full.

5

به بستان جلوه دادم آتش داغ جدائی را

نسیمش تیز تر می سازد و شبنم غلط ریز است

میں اپنے ہجر کے داغ کی آگ باغ میں لے گیا اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ باغ کی ٹھنڈی ہوا سے سرد ہو جائے ۔ لیکن باغ کی نرم و لطیف ہوا اس آگ کو اور تیز کر رہی ہے اور شبنم بھی اسے بجھانے میں ناکام رہی ہے ۔

Awhile into the mead I came, naked my anguished spirit’s flame; the breeze of morning fiercer blew; my heart was sprinkled o’er with dew.

6

اشارتهای پنهان خانمان برهم زند لیکن

مرا آن غمزه می باید که بیباک است و خونریز است

محبوب کے پوشیدہ اشارے اگرچہ عاشق کا گھر برباد کر دیتے ہیں ۔ مجھے تو محبوب کے ایسے ناز و ادا چاہیں جو مجھے برباد کرنے میں کسی قسم کا خوف محسوس نہ کرے اور خون بہانے سے دریغ نہ کرے ۔

The secret sign will overset the lover’s shrine entire; and yet it is the fearless glance I need that makes the lovers’ heart to bleed.

7

نشیمن هر دو را در آب و گل لیکن چه رازست این

خرد را صحبت گل خوشتر آید دل کم آمیز است

نشیمن دونوں کا بدن ہے، مگر یہ کیا ہے؛ عقل کو مٹی کی صحبت پسند ہے اور دل مٹی سے پرے رہتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Water’s the seat of both, and clay; what is the mystery then, I pray, the mind doth like the clay right well, but there the heart is loth to dwell?

8

مرا بنگر که در هندوستان دیگر نمی بینی

برهمن زاده ئی رمز آشنای روم و تبریز است

میری طرف دیکھ کہ ہندوستان میں تو دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا کہ ہے تو وہ برہمنوں کی اولاد لیکن وہ مولانا جلال الدین رومی اور شمس الدین تبریزی کے معارف و حقائق کا شناسا ہے ۔

Behold, and see! In Ind’s domain Thou shalt not find the like again, that, though a Brahman’s son I be, Tabriz and Rum stand wide to me.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر سر کفر و دین فشان رحمتِ عامِ خویش را

بندِ نقاب بر‌گشا ماهِ تمامِ خویش را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 8

اگلی نظم

دل دیده ئی که دارم همه لذت نظاره

چه گنه اگر تراشم صنمی ز سنگ خاره

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 10

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور