بر سر کفر و دین فشان رحمتِ عامِ خویش را
بندِ نقاب برگشا ماهِ تمامِ خویش را
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
On faith and infidelity O scatter wide Thy Clemency; at last the veil of darkness raise from the full splendour of Thy Face.
زمزمهٔ کهن سرای گردشِ بادهْ تیز کن
باز به بزمِ ما نگر، آتشِ جامِ خویش را
اقبال خدا سے التجا کرتے ہیں کہ پرانا گیت پھر سے گا اور شراب کی گردش کو تیز کر دے ۔ کیونکہ موجودہ زمانے نے لوگوں کو عشق خدا سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ پھر ہماری محفل میں اپنے پیالے کی آگ کا اثر دیکھ ۔ پرانے گیت اور شراب سے مراد اپنے آبا و اجداد کی اقدار ہیں ۔
Play once again the ancient song, and swiftly pass the wine along; let the flame-fever of Thy cup irradiate us as we sup.
دام ز گیسوان بدوش، زحمتِ گلستان بری
صید چرا نمیکنی طایر بامِ خویش را
تو اپنی زلفوں کے جال کندھوں پر پھیلا کر شکار کے لیے باغ میں جانے کی تکلیف کر رہا ہے تو اپنے مکان کی چھت پر بیٹھے ہوئے پرندے کا شکار کیوں نہیں کرتا ۔ تیرے عاشق کب سے تیری نگاہِ ناز کا تیر کھانے کو تیار بیٹھے ہیں ۔
Why, with Thy ringlets for a snare, forth to the garden dost Thou fare, when on Thy roof a bird there be, more worthy of Thy venery?
ریگِ عراق منتظر، کِشتِ حجاز تشنه کام
خون حسین بازده، کوفه و شامِ خویش را
عراق کی ریت انتظار کر رہی ہے اور حجاز کے کھیت پیاسے ہیں ۔ کوفہ و شام کو پھر سے خونِ حسین کی ضرورت ہے ۔ حق کی آواز بلند کرنے والے کی ضرورت ہے ۔
Expectant waits the Iraqi sand, athirst is Hijaz’ desert land; to Syria and Kufa give Husain’s spilled blood that they may live.
دوش به راهبر زند، راهِ یگانه طی کند
میندهد بدست کس عشقْ زمامِ خویش را
عشق کسی راہبر کے کندھوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔ عشق کسی اور کے ہاتھ میں اپنی لگا م بھی نہیں دیتا ۔
Love spurneth the attendant guide, alone upon the way he’ll ride, nor yield to any man’s control the reining of his stubborn soul.
ناله به آستانِ دِیر بیخبرانه میزدم
تا بحرم شناختم راه و مقامِ خویش را
میں نے بت خانے کے در پر جا کر بے خبری میں آہ و فریاد کی پھر کہیں جا کر مجھے اپنے صحیح مقام اور راستے کا پتہ چلا ۔ مطلب یہ کہ برسوں دنیا کی غلامی کے بعد معلوم ہوا کہ اصل آقا تو اللہ ہی ہے جس کی غلامی پر فخر کیا جا سکتا ہے ۔
To convent foolishly I went, upon that threshold to lament, until I found my road to be direct unto God’s sanctuary.
قافلهٔ بهار را طایرِ پیشرس نگر
آنکه بخلوتِ قفس گفت پیام خویش را
اس پرندے کو دیکھ جو کاروانِ بہار کی آمد کی خوشخبری اس کے آنے سے پہلے دے دیتا ہے ۔ پنجرے میں بند وہ پرندہ بہار کی آمد کا پیغام دے رہا ہے ۔ یہاں شاعر اپنے آپ کو پنجرے میں بند پرندے کی طرح محسوس کر رہا ہے کیونکہ ہندوستان پر انگریز حکمران تھے اور آنے والے حالات دنیا میں تبدیلیوں کا اشارہ دے رہے تھے
Behold this lone bird on the wing, first of the caravan of spring, who in his solitary cage carols the message of his age!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور