صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 7

غزل شمارهٔ 7

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: یری

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بصدای درمندی بنوای دلپذیری

خُم زندگی گشادم بجهان تشنه میری

میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔

With a song of agony, with a sweet, soft melody, to a dying world athirst Lo: life’s flagon I have burst.

2

تو بروی بینوائی درِ آن جهان گشادی

که هنوز آرزویش ندمیده در ضمیری

اے خدا! تو نے ایک بے نوا کے لیے اس دنیا کا دروازہ بھی کھول دیا جس کی تمنا بھی ابھی کسی دل میں پیدا نہیں ہوئی تھی ۔

In the way as beggars are Thou hast set that world ajar ere the ambition to attain Ever sprang in mortal brain.

3

ز نگاهِ سرمه‌سائی بدل و جگر رسیدی

چه نگاه سرمه‌سائی دو نشانه زد به تیری

اے خدا! تو اپنی سرمئی آنکھ کے ساتھ میرے دل اور جگر میں اُتر گیا ہے ۔ وہ سرمئی آنکھ کتنی خوبصورت ہے جس نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے ۔

‘Twas Thy surmah-shaded eye heart and soul were ravished by; O, the archery of it, with one shaft two marks to hit!

4

به نگاهِ نارسایم چه بهارِ جلوه دادی

که بباغ و راغ نالم چو تَذَرو نو صفیری

تو نے اے خدا میری نگاہ نارسا کو اپنے جلووں کی کیسی بہار سے آشنا کر دیا ہے کہ میں باغوں اور سبزہ زاروں میں اس چکور کی طرح فریاد کر رہا ہوں جس نے ابھی ابھی بولنا سیکھا ہو ۔

What a springtime of delight greets my underserving sight! Hear me in the meadow sing, like a new thrush caroling.

5

چه عجب اگر دو سلطان بولایتی نگنجند

عجب اینکه می‌نگنجد بدو عالمی فقیری

یہ بات عجیب نہیں کہ ایک مملکت میں دو بادشاہ نہیں سما سکتے ۔ عجیب یہ ہے کہ ایک فقیر دونوں جہانوں میں نہیں سما سکتا ۔ دراصل صاحبِ فقیر کے لیے دونوں جہانوں کی وسعت بھی کم ہوتی ہے ۔

Not so strange, if monarchs, twain in one kingdom cannot reign, as that both the worlds are less than one dervish to possess.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

من اگرچه تیره خاکم دلکیست برگ و سازم

به نظارهٔ جمالی چو ستاره دیده بازم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 6

اگلی نظم

بر سر کفر و دین فشان رحمتِ عامِ خویش را

بندِ نقاب بر‌گشا ماهِ تمامِ خویش را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 8

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور