شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
قافیہ: ازم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
من اگرچه تیره خاکم دلکیست برگ و سازم
به نظارهٔ جمالی چو ستاره دیده بازم
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
Though dust, and dark as dust, am I, I have a little heart, whereby with vision open as a star I gaze on beauty from afar.
بهوای زخمهٔ تو همه نالهٔ خموشم
تو باین گمان که شاید ز نوا فتاده سازم
میں تو تیری مضراب کی ضرب کی تمنا میں سر سے لے کر پاؤں تک خاموش فریاد ہوں اور تو اس خیال میں ہے کہ میرے ساز میں گیت ختم ہو گیا ہے ۔
Praying Thy fingers may caress, unuttered is my heart’s distress; and Thou supposest that maybe my lyre has lost its minstrelsy.
به ضمیرم آنچنان کن که ز شعلهٔ نوائی
دلِ خاکیان فروزم دلِ نوریان گدازم
اے خدا! تو میرے ضمیر پر ایسی نگاہِ کرم کر کہ اپنے آتش کلام سے خاک کے بنے ہوئے انسانوں کے دلوں کو منور کر دوں اور نوری مخلوق یعنی فرشتوں کے دلوں کو پگھلا کر انہیں بھی سوز و گداز کے لطف سے آشنا کر دوں ۔
Do Thou so quicken my desire that, with a melody of fire, I may the earthy heart make bright, and wholly melt the heart of light.
تب و تاب فطرت ما ز نیازمندی ما
تو خدای بی نیازی نرسی بسوز و سازم
ہماری فطرت میں جو بے چینی یعنی حرارت اور چمک ہے اے خدا! وہ ہماری تیرے ساتھ نیاز مندی کی وجہ سے ہے ۔ اے خدا! تو نیازمندی سے سراسر نا آشنا ہے اس لیے تو ہمارے سوز اور تڑپ تک نہیں پہنچ سکتا ۔
The burning fever of my breed is symptom of my so great need; thou, who art God, and lackest naught, know’st not the anguish in me wrought.
به کسی عیان نکردم ز کسی نهان نکردم
غزل آنچنان سرودم که برون فتاد رازم
میں نے اپنے رازوں کو نہ تو کسی پر عیاں کیا اور نہ ہی پوشیدہ رکھا ۔ میں نے غزل ہی اس انداز سے چھیڑی کہ میرے دل کے تمام راز ظاہر ہو گئے ۔
I never sought to make this plain or keep it hid from any man; my secret has itself displayed, and so my melody was made.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور