از مشتِ غبار ما صد ناله برانگیزی
نزدیکتر از جانی با خوی کم آمیزی
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.
در موجِ صبا پنهان، دزدیده بباغ آئی
در بوی گل آمیزی با غنچه در آویزی
صبا کے دوش پر تو چھپ کر باغ میں آتا ہے اور پھولوں کی بکھری ہوئی خوشبو اور بند کلیوں میں گھل مل جاتا ہے ۔ پھولوں کے حسن اور کلیوں کی خوشبو میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ۔
Hiding in the gentle breeze, thief-like You enter the garden; You mix with the flower’s perfume, and blend with the bud.
مغرب ز تو بیگانه مشرق همه افسانه
وقت است که در عالم نقشِ دگر انگیزی
اے خدا! اہل مغرب تیری عظمت سے بے خبر ہو چکے ہیں اور اہل مشرق افسانوں کی مانند خیالات کی دنیا میں گم ہیں یعنی حقیقت سے دور ہو چکے ہیں اور سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔
The West is indifferent to You, the East is all legends; it is time you etched a new design in the world.
آنکس که بسر دارد سودای جهانگیری
تسکین جنونش کن با نِشتر چنگیزی
جس شخص کو دنیا پر حکمرانی کا جنون ہو اور وہ دنیا کو تیری غلامی سے چھڑا کر اپنا غلام بنانا چاہتا ہے اس کے اس پاگل پن اور جنون کی تسکین کے لیے ایسا چنگیزی نشتر چلا کہ اس کے دل و دماغ سے یہ خیال باطن فاسد خون کی طرح بہہ جائے اور وہ یہ بات سمجھ لے کہ اصل حکمرانی تو اللہ ہی کو زیبا ہے ۔
He who is heady with the ambition of world-conquest; soothe his craze with the lancet of Genghis.
من بندهٔ بیقیدم شاید که گریزم باز
این طُرّه پیچان را در گردنم آویزی
اے خدا! میں تیرا ایسا غلام ہوں جو کسی قسم کی زنجیروں میں نہیں جکڑا ہوا ۔ ہو سکتا ہے کہ زمانے کے اطوار مجھے تجھ سے باغی کر دیں ۔ ایسے میں تو اپنے اس بل کھائے ہوئے گیسووَں کو میری گردن کے گرد لپیٹ دے تاکہ میں کسی وقت بھی تیری غلامی سے دور نہ جا سکوں ۔
An unreined bondsman, I might slip away again – suppose You hung these curly tresses around my neck!
جز ناله نمیدانم گویند غزل خوانم
این چیست که چون شبنم بر سینهٔ من ریزی
میں تو نالہ و فریاد کے سوا کچھ نہیں جانتا ۔ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ میں غزل پڑھ رہا ہوں ۔ یہ کیا چیز ہے جو تو شبنم کی طرح میرے سینے پر گرا رہا ہے (لوگ مجھے شاعر سمجھ رہے ہیں حالانکہ میں تو تیرا الہامی پیغام لوگوں کو پہنچا رہا ہوں کیونکہ یہی ایسا طریقہ ہے جس سے میں لوگوں کے دلوں تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہوں ) ۔
Lament is all I know, but they say I am a singer of ghazal; what is this dew-like thing You are pouring on my heart?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور