غزل نمبر19
Ghazal No. 19
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
صد نالهٔ شبگیری صد صبح بلا خیزی
صد آه شررریزی یک شعر دلآویزی
پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔
A hundred nights of wailing, a hundred mornings of travail, a hundred fire-emitting sighs: The product? One poignant verse.
در عشق و هوسناکی دانی که تفاوت چیست
آن تیشهٔ فرهادی این حیلهٔ پرویزی
تو جانتا ہے عشق اور ہوسناکی میں کیا فرق ہے وہ فرہاد کا تیشہ ہے اور یہ پرویز کا مکر (عشق حقیقی کے اندر ایثار و قربانی ہے جبکہ عشق مجازی مکاری اور عیاری کا درس دیتا ہے) ۔
Do you know how you can tell love from lust? The former is Farhad’s pickaxe, the latter is Parvez’s guile.
با پردگیان برگو کاین مشت غبار من
گردیست نظربازی خاکیست بلاخیزی
پردے میں رہنے والو (فرشتو) سے برملا کہہ دو کہ یہ میری مٹھی بھر مٹی گرد ہے تاک جھانک کرتی خاک ہے مگر طوفان اٹھاتی ہے (فرشتوں سے افضل ہے) ۔
Tell those behind the inner curtain this: The handful of dust that is; I is dust that sees, is dust that raises storms.
هوشم برد ای مطرب مستم کند ای ساقی
گلبانگ دلآویزی از مرغ سحرخیزی
اے مطرب! میرے ہوش اڑا لیجاتی ہے اے ساقی مجھے مست کر دیتی ہے کسی بلبل کے دل میں اتر جانے والی چہکار ۔
A pleasing song sung by an early morning bird intoxicates me and enraptures me, O saki, O musician.
از خاک سمرقندی ترسم که دگر خیزد
آشوب هلاکویی، هنگامهٔ چنگیزی
مجھے امید ہے کہ سمر قند کی خاک سے پھر اٹھنے کو ہے کسی ہلاکو کا طوفان کسی چنگیز کا ہنگامہ ۔
From Samarkand, I fear, there may arise again the threat of a Hulaku or the terror of a Genghis Khan.
مطرب غزلی، بیتی از مرشد روم آور
تا غوطه زند جانم در آتش تبریزی
اے مطرب! کوئی غزل شعر مرشد رومی کے ہاں سے گا تا کہ میری روح تبریز کی آگ میں غوطہ کھائے ۔ مولوی ہرگز نشد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نشد
O singer, sing a ghazal or a couplet of the holy guide of Rum, so that my soul may be immersed in the fire of Tabriz.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور