صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 18

غزل شمارهٔ 18

غزل نمبر18

Ghazal No. 18

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ستنمیتوان

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

بحر بی‌پایان به جوی خویش بستن می‌توان

موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔

A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.

2

از نوایی می‌توان یک شهر دل در خون نشاند

یک چمن گل از نسیمی سینه خستن می‌توان

ایک نغمے سے دل کا ایک شہر لہو میں غرق کیا جا سکتا ہے ۔ نسیم کے ایک جھونکے سے چمن بھر پھولوں کا سینہ زخمی کیا جا سکتا ہے ۔

A city full of hearts can well be made to bleed with a poignant song. A garden full of flowers can well be pierced by a whiff of the morning breeze.

3

می‌توان جبریل را گنجشک دست‌آموز کرد

شهپرش با موی آتش دیده بستن می‌توان

جبریل کو سدھائی ہوئی چڑیا ایسا بنا سکتے ہیں ۔ (اگر عشق حقیقی اختیار کر لے تو وہ جبرئیل جیسے طاقتور کو اپنا مطیع بنا سکتا ہے) ۔ اس کے شپہر جلے ہوئے بال سے باندھے جا سکتے ہیں ۔

The mighty Gabriel can well be turned into a hand-trained sparrow. His wings can well be tied up with a single near-singed hair.

4

ای سکندر سلطنت نازک‌تر از جام جم است

یک جهان آیینه از سنگی شکستن می‌توان

اے سکندر! بادشاہی جمشید کے پیالے سے بھی زیادہ نازک ہے ۔ آئینوں کا ایک جہاں ایک پتھر سے چور ہو سکتا ہے ۔ (مطلب یہ ہے کہ سلطنت کرنے کے لیے بہت دانائی اور عاقبت بینی کی ضرورت ہے کیونکہ بادشاہ کے غیر دانشمندانہ فعل سے بہت سے آئینے ٹوٹ سکتے ہیں ۔ یعنی بہت سے انسان تباہ ہو سکتے ہیں ۔ )

O Alexander, kingship is more frail than Jamshid’s cup. A whole world full of mirrors can be smashed with but a single stone.

5

گر به خود محکم شوی سیل بلاانگیز چیست

مثل گوهر در دل دریا نشستن می‌توان

اگر تو اپنے آپ میں اٹل ہو جائے (خودی کو مستحکم کر لے) تو بڑے سے بڑا سیلاب بھی کوئی چیز نہیں ہے (دنیا کی کوئی مصیبت تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی ) ۔ موتی کی طرح سمندر کے دل میں قرار سکون سے بیٹھا جا سکتا ہے ۔ (موتی سمندر میں محفوظ رہتا ہے اگرچہ سمندر میں ہر وقت تلاطم برپا رہتا ہے) ۔

If you are stable in yourself, what harm can a destructive flood do you? For you can settle at its bottom as a pearl does at the bottom of the sea.

6

من فقیرِ بی‌نیازم مشربم این است و بس

مومیایی خواستن نتوان ، شکستن می‌توان

میں بے نیاز فقیر ہوں میرا طریق یہ ہے اور بس ۔ ٹوٹ سکتے ہیں (مر جانا قبول ہے) لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا نہیں ہے ۔

Ascetic that I am, too proud to ask, my creed is this: That I had rather see my body break to bits than seek a medicine to keep it whole.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

تجلی دگری در خور تقاضا نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 17

اگلی نظم

صد نالهٔ شبگیری صد صبح بلا خیزی

صد آه شررریزی یک شعر دل‌آویزی

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 19

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور