غزل نمبر17
Ghazal No. 17
ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست
تجلی دگری در خور تقاضا نیست
آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے
From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.
به ملک جم ندهم مصرع نظیری را
«کسی که کشته نشد از قبیلهٔ ما نیست»
میں نظیری کا یہ مصرع جمشید کی سلطنت کے بدلے بھی نہ دوں ، جو مارا نہ گیا (جس نے جان قربان نہیں کی ) ہمارے قبیلے میں سے نہیں ۔ ( جو شخص اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں ہے) ۔
I would not give for Jamshid’s realm Naziri’s line: ‘One who has not been killed can never have been from our tribe.’
اگرچه عقل فسون پیشه لشکری انگیخت
تو دل گرفته نباشی که عشق تنها نیست
اگرچہ دھوکے باز عقل نے لشکر تیار کیا ہوا ہے مگر تم مایوس نہ ہونا کیونکہ عشق اکیلا نہیں ہے ۔
That sorcerer, the intellect, attacks you with a host; but do not be dismayed, for Love is not alone.
تو ره شناس نئی وز مقام بیخبری
چه نغمه ایست که در بربط سلیمی نیست
تو راہ کی پہچان رکھنے والا نہیں اور مقام سے بھی بے خبر ہے ورنہ وہ کون سا نغمہ ہے جو سلیمی کے بربط میں نہیں ( وہ کون سی بات ہے جو اسلام میں نہیں ) ۔
You do not know the rah, and you are ignorant of the maqam. There is no tune which is not in Sulayma’s lute.
نظر بخویش چنان بسته ام که جلوهٔ دوست
جهان گرفت و مرا فرصت تماشا نیست
میں اپنے آپ میں ایسا گم (محو) ہوں کہ دوتل کا دلوہ سارے عالم پر چھا گیا اور مجھے آنکھ اٹھانے کی فرصت ہی نہیں (باطنی دنیا خارجی دنیا سے بہت زیادہ دلکش ہے) ۔
I have my eyes so fixed on myself that, although the beauty of my Friend has conquered the whole world, I have no time to look at it.
بیا که غلغله در شهر دلبران فکنیم
جنون زنده دلان هرزه گرد صحرا نیست
آ کہ دلبروں کے شہر میں ہنگامہ برپا کر دیں ۔ زندہ دلوں کا جنوں صحرا میں آوارہ گرد پھرنا نہیں ہے(خدا کے عاشق رہبانیت اختیار نہیں کرتے بلکہ دنیا والوں کو اسلام کا پیغام سناتے ہیں ) ۔
Come, let us make an uproar in the city of the lovely. The madness of the lively does not seek a desert for a roaming ground.
ز قید و صید نهنگان حکایتی آور
مگو که زورق ما روشناس دریا نیست
مگرمچھوں کے شکار اور انہیں قید کرنے کا احوال مت سنا کہ میری کشتی سمندر کا رخ نہیں پہچانتی ۔ قابل تحسین شخص وہ ہے جو نہنگوں کا مقابلہ کر سکے نہ کہ وہ جو ساحل دریا پر بیٹھا رہے ۔
Come; tell a tale about the hunting of the monsters of the sea. Do not say that your boat is unused to the sea’s ways.
مرید همت آن رهروم که پا نگذاشت
به جاده ئی که درو کوه و دشت و دریا نیست
میں اس مسافر کی ہمت کا مرید ہوں جس نے قدم نہ رکھا اس راستے پر جس میں پہاڑ اور جنگل اور دریا نہیں (مشکلات نہیں ) ۔
O I admire the courage of a traveller who does not tread an easy path that does not pass through deserts, over mountains, across streams.
شریک حلقهٔ رندان باده پیما باش
حذر ز بیعت پیری که مرد غوغا نیست
مے نوش رندوں کے حلقے میں شریک ہو جا (جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لے) اس پیر کی بیعت سے بھاگ جو میدان کا دھنی نہیں ۔
Live in the company of lively revellers. Shun the discipleship of one who is not an uproarious man.
برهنه حرف نگفتن کمال گویائیست
حدیث خلوتیان جز به رمز و ایما نیست
بات کو کھول کے نہ کہنا گویائی کا کما ل ہے ۔ اہل خلوت صرف رمز اور اشارے سے اپنا مطلب بیان کر جاتے (شاعر اپنے ما فی الضمیر (خیالات) کو صاف لفظوں میں بیان نہ کرے بلکہ اپنی عبارت میں ابہام کا رنگ پیدا کرے تا کہ پڑھنے والا غو ر و فکر پر مجبور ہو جائے ۔ اقبال کی شاعری تمام رمزیہ اور ایمائی ہے اورا سی انداز بیان میں ان کے کلام کا سارا لطف مظہر ہے) ۔
The acme of expression is not to speak in bare, literal terms the speech of inmates of the inner circle is always in symbols and in signs.
زمین
بیا که هیچ بهاری به حسرتِ ما نیست
شکستهرنگیِ امید، بیتماشا نیست
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 738
تو مستِ وهم و درین بزم بوی صهبا نیست
هنوز جز به دلِ سنگ جای مینا نیست
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 739
نیاز نامهٔ ما عرض سجده عنوانیست
ز خامه آنچه برون ریخت نقش پیشانیست
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 741
نماند جا که تر از ابر دیده ما نیست
ولی چه سود که آن مه در ابر پیدا نیست
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 64
به بزم زنده دلان ذکر دی و فردا نیست
صفای وقت جز از باده مصفا نیست
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 97
سرای مدرسه و بحثِ عِلم و طاق و رَواق
چه سود، چون دلِ دانا و چشمِ بینا نیست؟
حافظقطعاتقطعه شمارهٔ 2
شهی که پاس رعیت نگاه میدارد
حلال باد خراجش که مزد چوپانیست
سعدیمواعظقطعاتشمارهٔ 36
ز زلف او دل عشاق را محابا نیست
کبوتران حرم را ز دام پروا نیست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1794
به دلنشینی صحرای عشق صحرا نیست
سیاه خیمه این دشت جز سویدا نیست
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1795
گریزد از صف ما هر که مرد غوغا نیست
کسی که کشته نشد از قبیله ما نیست
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 75
فارسی متن کا ماخذ: گنجور