صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 17

غزل شمارهٔ 17

غزل نمبر17

Ghazal No. 17

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 11

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

تجلی دگری در خور تقاضا نیست

آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے

From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.

2

به ملک جم ندهم مصرع نظیری را

«کسی که کشته نشد از قبیلهٔ ما نیست»

میں نظیری کا یہ مصرع جمشید کی سلطنت کے بدلے بھی نہ دوں ، جو مارا نہ گیا (جس نے جان قربان نہیں کی ) ہمارے قبیلے میں سے نہیں ۔ ( جو شخص اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں ہے) ۔

I would not give for Jamshid’s realm Naziri’s line: ‘One who has not been killed can never have been from our tribe.’

3

اگرچه عقل فسون پیشه لشکری انگیخت

تو دل گرفته نباشی که عشق تنها نیست

اگرچہ دھوکے باز عقل نے لشکر تیار کیا ہوا ہے مگر تم مایوس نہ ہونا کیونکہ عشق اکیلا نہیں ہے ۔

That sorcerer, the intellect, attacks you with a host; but do not be dismayed, for Love is not alone.

4

تو ره شناس نئی وز مقام بیخبری

چه نغمه ایست که در بربط سلیمی نیست

تو راہ کی پہچان رکھنے والا نہیں اور مقام سے بھی بے خبر ہے ورنہ وہ کون سا نغمہ ہے جو سلیمی کے بربط میں نہیں ( وہ کون سی بات ہے جو اسلام میں نہیں ) ۔

You do not know the rah, and you are ignorant of the maqam. There is no tune which is not in Sulayma’s lute.

5

نظر بخویش چنان بسته ام که جلوهٔ دوست

جهان گرفت و مرا فرصت تماشا نیست

میں اپنے آپ میں ایسا گم (محو) ہوں کہ دوتل کا دلوہ سارے عالم پر چھا گیا اور مجھے آنکھ اٹھانے کی فرصت ہی نہیں (باطنی دنیا خارجی دنیا سے بہت زیادہ دلکش ہے) ۔

I have my eyes so fixed on myself that, although the beauty of my Friend has conquered the whole world, I have no time to look at it.

6

بیا که غلغله در شهر دلبران فکنیم

جنون زنده دلان هرزه گرد صحرا نیست

آ کہ دلبروں کے شہر میں ہنگامہ برپا کر دیں ۔ زندہ دلوں کا جنوں صحرا میں آوارہ گرد پھرنا نہیں ہے(خدا کے عاشق رہبانیت اختیار نہیں کرتے بلکہ دنیا والوں کو اسلام کا پیغام سناتے ہیں ) ۔

Come, let us make an uproar in the city of the lovely. The madness of the lively does not seek a desert for a roaming ground.

7

ز قید و صید نهنگان حکایتی آور

مگو که زورق ما روشناس دریا نیست

مگرمچھوں کے شکار اور انہیں قید کرنے کا احوال مت سنا کہ میری کشتی سمندر کا رخ نہیں پہچانتی ۔ قابل تحسین شخص وہ ہے جو نہنگوں کا مقابلہ کر سکے نہ کہ وہ جو ساحل دریا پر بیٹھا رہے ۔

Come; tell a tale about the hunting of the monsters of the sea. Do not say that your boat is unused to the sea’s ways.

8

مرید همت آن رهروم که پا نگذاشت

به جاده ئی که درو کوه و دشت و دریا نیست

میں اس مسافر کی ہمت کا مرید ہوں جس نے قدم نہ رکھا اس راستے پر جس میں پہاڑ اور جنگل اور دریا نہیں (مشکلات نہیں ) ۔

O I admire the courage of a traveller who does not tread an easy path that does not pass through deserts, over mountains, across streams.

9

شریک حلقهٔ رندان باده پیما باش

حذر ز بیعت پیری که مرد غوغا نیست

مے نوش رندوں کے حلقے میں شریک ہو جا (جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لے) اس پیر کی بیعت سے بھاگ جو میدان کا دھنی نہیں ۔

Live in the company of lively revellers. Shun the discipleship of one who is not an uproarious man.

10

برهنه حرف نگفتن کمال گویائیست

حدیث خلوتیان جز به رمز و ایما نیست

بات کو کھول کے نہ کہنا گویائی کا کما ل ہے ۔ اہل خلوت صرف رمز اور اشارے سے اپنا مطلب بیان کر جاتے (شاعر اپنے ما فی الضمیر (خیالات) کو صاف لفظوں میں بیان نہ کرے بلکہ اپنی عبارت میں ابہام کا رنگ پیدا کرے تا کہ پڑھنے والا غو ر و فکر پر مجبور ہو جائے ۔ اقبال کی شاعری تمام رمزیہ اور ایمائی ہے اورا سی انداز بیان میں ان کے کلام کا سارا لطف مظہر ہے) ۔

The acme of expression is not to speak in bare, literal terms the speech of inmates of the inner circle is always in symbols and in signs.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز

گر نگاه تو دو بین است ندیدن آموز

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 16

اگلی نظم

موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

بحر بی‌پایان به جوی خویش بستن می‌توان

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 18

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بیا که هیچ بهاری به حسرتِ ما نیست

شکسته‌رنگیِ امید، بی‌تماشا نیست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 738

تو مستِ وهم و درین بزم بوی صهبا نیست

هنوز جز به دلِ سنگ جای مینا نیست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 739

نیاز نامهٔ ما عرض سجده عنوانیست

ز خامه آنچه برون ریخت نقش پیشانیست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 741

نماند جا که تر از ابر دیده ما نیست

ولی چه سود که آن مه در ابر پیدا نیست

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 64

به بزم زنده دلان ذکر دی و فردا نیست

صفای وقت جز از باده مصفا نیست

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 97

سرای مدرسه و بحثِ عِلم و طاق و رَواق

چه سود، چون دلِ دانا و چشمِ بینا نیست؟

حافظ»قطعات»قطعه شمارهٔ 2

شهی که پاس رعیت نگاه می‌دارد

حلال باد خراجش که مزد چوپانیست

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 36

ز زلف او دل عشاق را محابا نیست

کبوتران حرم را ز دام پروا نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1794

به دلنشینی صحرای عشق صحرا نیست

سیاه خیمه این دشت جز سویدا نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1795

گریزد از صف ما هر که مرد غوغا نیست

کسی که کشته نشد از قبیله ما نیست

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 75

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور