ای که ز من فزودهای گرمی آه و ناله را
زنده کن از صدای من خاکِ هزارساله را
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
Thou who didst make more ardent my sighing and my tears, O let my anthem quicken dust of a thousand years.
با دلِ ما چهها کنی تو که به بادهٔ حیات
مستی شوق میدهی آب و گُلِ پیاله را
تو میرے دل کے ساتھ بہت کچھ کر سکتا ہے ۔ اسے اپنی محبت سے سرفراز کر سکتا ہے ۔ تو زندگی کی شراب سے پانی میں گندھی ہوئی مٹی سے بنے پیالے کو عشق کی مستی عطا کر دیتا ہے ۔ یہاں تخلیق آدم کی طرف اشارہ ہے جس طرح رب کائنات نے بے جان مٹی میں زندگی کی روح پھونک دی تھی ۔ اسی طرح شاعر کے جسم خاکی کو بھی عشق آشنا بنا سکتا ہے ۔
What wilt Thou of my heart, then, who with the wine of life excitest in the goblet this passion and this strife?
غنچهٔ دلگرفته را از نفسم گرهگشای
تازه کن از نسیمِ من داغِ درونِ لاله را
میرے دم میں ایسی قوت عطا کر دے جو بند دل غنچوں کے منہ کھول دے یعنی غمزدہ لوگوں کو راحت بخش دے ۔ میری نرم و لطیف ہوا کے جھونکوں سے گل لالہ کے اس داغ کو پھر سے تروتازہ کر دے جو وقت کے ہاتھوں اپنی سیاہی کھو چکا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ میرے کلام سے امتِ مسلمہ کے رنجیدہ دلوں کو راحت دے کر انہیں موجودہ مشکلات سے نجات دے دے ۔
And when my breath caressing shall softly, sweetly blow, the withered heart will blossom, the tulip newly glow.
میگذرد خیالِ من از مه و مهر و مُشتری
تو به کمین چه خفتهای، صید کن این غزاله را
میری سوچ اور فکر چاند، سورج اور مشتری سے بھی آگے بڑھ گئی ہے ۔ تو گھات لگائے کیوں بیٹھا ہے اس ہرنی کو شکار کر جو تیرے قریب ہے ۔ مراد یہ کہ انسان ستاروں پر کمندیں تو ڈال رہا ہے لیکن اسے اپنی ذات کی پہچان نہیں ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ اے خدا میں اپنے آپ سے اور تجھ سے بے خبر ہو چکا ہوں ۔ تو مجھے اپنی پہچان سے آشنا کر دے ۔
My fantasy is soaring beyond the stars and sun; why lurkest Thou in hiding, when hunting’s to be done?
خواجهٔ من نگاه دار آبروی گدای خویش
آنکه ز جوی دیگران پُر نکند پیاله را
اے میرے آقا! اپنے اس گدا کی عزت و آبرو کی حفاظت کر ۔ تیرے در کا یہ گدا دوسروں کی نہر سے اپنا پیالہ نہیں بھرتا ۔ یہ صرف تیرے ہی دروازے کا سائل ہے اسے دوسرے کا محتاج نہ بنا ۔
O Master, guard the honour of him who begs of thee; he’ll let no wine of others within his goblet be.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور