صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 3

غزل شمارهٔ 3

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازاور

صنف: غزل

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

غزل سُرای و نواهای رفته باز‌آور

به این فسرده‌دلان حرفِ دل‌نواز آور

اقبال اس شعر میں ربِ ذوالجلال سے عرض کرتے ہیں کہ غزل گوئی کا وہ انداز اور سُرتال کا وہ اسلوب جو کبھی مسلم قوم میں موجود تھا اُسے پھر سے زندہ کر دے ۔ افسردہ اور غم زدہ دلوں کو مسرتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے کوئی شگفتہ کلام لے کر آ ۔ تا کہ مسلمانوں کی زندگی میں پھر سے عروج کی حرارت پیدا ہو جائے ۔

O bring me back the singing, the airs of long ago; bring back the sweet, sad music to set cold hearts aglow.

2

کِنشت و کعبه و بتخانه و کلیسا را

هزار فتنه از آن چشمِ نیم‌باز آور

اے خدا! آتش پرستون کے مندر ، مسلمانوں کے حرم کعبہ، کافروں کے صنم خانوں اور عیسائیوں کے گرجا گھروں میں اپنی مستی بھری نگاہوں ایسے ان گنت فتنے (تڑپ) پیدا کر دے جو انہیں اپنے اپنے مذاہب سے سچی لگن اور محبت کے اصول پھر سے سکھا دے ۔ مطلب یہ کہ جو لوگ غفلت کا شکار ہو کر اپنے دین سے برگشتہ ہو چکے ہیں انہیں دوبارہ اسی سچے راستے سے آشنا کر دے ۔

Too hushed is mosque and temple, too silent church and shrine; stir up a thousand tumults with that dark glance of Thine.

3

ز باده‌ئی که بخاکِ من آتشی آمیخت

پیاله‌ئی بجوانانِ نو‌ نیاز آور

وہ شرابِ معرفت جس نے میرے خاکی بدن میں نورِ حق کی آگ پیدا کر دی ہے ۔ اس کا ایک پیالہ ان نوجوانوں کو بھی پلا دے جنھیں تیری قربت حاصل کرنے کا شوق ہے ۔ مراد یہ کہ نئی نسل کے نوجوان دین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں انہیں اپنے عشق کی شراب پلا دے ۔

Fill me the fiery goblet that made my dust to flame: Youth thirsts anew, desirous, and youth shall quaff the same.

4

نئی که دل ز نوایش بسینه می‌رقصد

مئی که شیشهٔ جان را دهد گداز‌ آور

وہ بانسری جس کی مدھر تانوں سے دل سینے میں ناچنے لگتا ہے اور وہ شراب کہ جس سے ساغر جان (جان کا پیالہ ) پگھل جاتا ہے اے خدا پھر سے لا ۔ یعنی مسلمانوں میں دوبارہ اپنی محبت اور ذوق اور شوق اُجاگر کرنے کے اسباب پیدا کر دے ۔

The pipe that sets a dancing the heart within the breast, the wine that moves the spirit and melts and soul oppressed:

5

به نیستانِ عجم بادِ صبحدم تیز است

شراره‌ئی که فرو می‌چکد ز ساز آور

خدا سے دعا کرتے ہوئے علامہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! عجم یعنی مشرق کے سرکنڈوں میں جنگل کی بادِ صبا بڑی تیزی سے چل رہی ہے یعنی مشرقی مسلم ممالک میں بیداری کی لہر اٹھ رہی ہے ۔ اس بیداری کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی چنگاری کی ضرورت ہے جو سرکنڈوں میں آگ بھڑکا دے ۔ یہ آگ وہ عشقِ حقیقی ہے جو مسلمانوں میں مقصود ہو چکا ہے ۔ اس آگ کے بھڑکنے سے مسلمان قوم پھر سے زندہ ہو جائے گی ۔

Soft amid Persia’s rushes the breeze of morning sings: Bring me the spark that trickles from those melodious strings.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

درونِ سینهٔ ما سوزِ آرزو ز کجاست؟

سبو ز ماست ولی باده در سبو ز کجاست؟

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 2

اگلی نظم

ای که ز من فزوده‌ای گرمی آه و ناله را

زنده کن از صدای من خاکِ هزارساله را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 4

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور