صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 2

غزل شمارهٔ 2

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: وزکجاست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
1

ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔

The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?

2

اس دنیا کا مادہ خاک ہے اور ہم بھی ایک مشت خاک (مٹی کی مٹھی) ہیں ۔ ہمارا جسم مادہ اشیاء کا بنا ہوا ہے ۔ لیکن ہمارے جسم میں جو دردِ جستجو پایا جاتا ہے وہ کہاں سے آیا ہےیہ تلاش و جستجو اسے کوئی نہ کوئی چیز ضرور اُکسا رہی ہے ۔

I know that this world is mere dust, and that we, too, are a handful of dust. But this pain of quest that runs through our being – where does it come from?

3

ہماری نگاہ کہکشاں کو تو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اپنے اندر کے جنون اور عشق کو دیکھنے سے قاصر ہے ۔ یہ نگاہِ ظاہری باطنی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتی ۔ کوئی مردِ کامل ہی منزل سلوک کا راستہ دکھا سکتا ہے ۔

Our glances reach the neckline of the Galaxy; this obsession of ours, this tumult and clamor – where does it come from?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

«عشق شور انگیز را هر جاده در کوی تو برد»

«بر تلاش خود چه مینا زد که ره سوی تو برد»

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 1

اگلی نظم

غزل سُرای و نواهای رفته باز‌آور

به این فسرده‌دلان حرفِ دل‌نواز آور

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 3

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00