صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 11

غزل شمارهٔ 11

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازیهست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

گرچه شاهین خرد بر سر پروازی هست

اندرین بادیه پنهان قدر اندازی هست

اگرچہ عقل کا شاہین اڑان کے لیے تیار ہے لیکن اس بیابان میں ایک تیر انداز بھی پوشیدہ ہے جو اسے آسانی سے شکار کر لیتا ہے ۔ عشق کی جہاں تک رسائی ہوتی ہے وہاں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔

Though the falcon of the brain yearneth on the wing to be, archers in this desert plain wait upon him secretly!

2

آنچه ازکار فروبسته گره بگشاید

هست و در حوصلهٔ زمزمه پروازی هست

وہ چیز جو کسی بند کام کی گرہ کھول سکتی ہے اس دنیا میں موجود ہے ۔ وہ چیز عشق کے نغمہ گر عاشق کے عزم و حوصلہ میں پائی جاتی ہے ۔

Yet the tied and twisted cord lacketh not for remedy: Singing can the cure afford of this hard perplexity.

3

تاب گفتار اگر هست شناسائی نیست

وای آن بنده که در سینه او رازی هست

اگر گفتگو کی ہمت اور حوصلہ ہے تو اسے سمجھنے والا کوئی نہیں ۔ اس انسان پر افسوس ہے کہ اس کی سینہ میں راز ہے (نہ تو وہ اس راز کو عیاں کر سکتا ہے اور نہ ہی پوشیدہ رکھ سکتا ہے) ۔

If the power of speech be there, yet is knowledge not possessed; hapless servant, who doth bear such a secret in his breast!

4

گرچه صد گونه بصد سوز مرا سوخته اند

ای خوشا لذت آن سوز که هم سازی هست

اگرچہ خالقِ کائنات نے مجھے سینکڑوں طرح کے سوز میں جلایا ہے لیکن یہ سوز کتنا اچھا کہ اس سوز میں لذت بھی موجود ہے ۔

Though a hundred varied ways they should burn and ravage me, there is comfort in my blaze and a glad felicity.

5

مرده خاکیم و سزاوار دل زنده شدیم

این دل زنده و ما ، کار خدا سازی هست

ہم تو بے جان مٹی ہیں لیکن زندہ دل لوگوں کے قابل بن گئے ۔ یعنی اللہ نے ہمارے دل کو سوزِ عشق اور معرفت الہٰی سے آشنا کر دیا ۔

Dust, and dead as dust, are we, yet a heart we merited: Lo! The living deity heart-engendered in the dead.

6

شعلهٔ سینهٔ من خانه فروز است ولی

شعله ئی هست که هم خانه براندازی هست

شعلہَ عشق سے ہمارا سینہ روشن ہونے والا ہے ۔ عشق کی نعمت سے ہمارے جسم خاکی کے تاریک گھر میں معرفت الہٰی کی روشنی پھیل گئی ہے ۔ لیکن یہ گھر کو برباد کرنے والا بھی ہے ۔ دنیاوی طور پر تو گھر کی بربادی نظر آتی ہے لیکن باطنی لحاظ سے یہ گھر ہر طرح آباد دکھائی دیتا ہے ۔

In my breast there is a flame setteth all the house aglow, yet it is the very same that the house doth overthrow.

7

تکیه بر عقل جهان بین فلاطون نکنم

در کنارم دلکی شوخ و نظر بازی هست

میں عقل پر چاہے وہ افلاطون کی ہی کیوں نہ ہو بھروسہ نہیں کرتا ۔ میرے پہلو میں عشق سے معمور چھوٹا سا دل ہے جو شوخ بھی ہے اور حسن پرست بھی ۔ مجھے اسی پر بھروسہ ہے ۔

Plato’s mind the world described, yet I will not trust in it, for a heart is in my side bold to view the infinite.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل دیده ئی که دارم همه لذت نظاره

چه گنه اگر تراشم صنمی ز سنگ خاره

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 10

اگلی نظم

این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است

جلوهٔ او گرو دیدهٔ بیدار من است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 12

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خلوت آینه را طوطی غمازی هست

هر کجا روی نهادیم سخنسازی هست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1583

خبری خواهم از آن کوی که اعزازی هست

ز برون عرض نیازی ، ز درون نازی هست

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 130

غیر من در پس این پرده سخن سازی هست

راز در دل نتوان داشت که غمازی هست

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 138

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور