این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است
جلوهٔ او گرو دیدهٔ بیدار من است
اس جہان کی حقیقت کیا ہے یہ میرے تصور یا احساس کا بت خانہ ہے ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ دراصل یہ میرے تصورات اور احساسات کی دنیا ہے ۔ اس کی حقیقت میری بیدار آنکھ کی مر ہون منت ہے ۔
What is the world? The temple of my thought, the seen projection of my wakeful eye;
همه آفاق که گیرم به نگاهی او را
حلقه ئی هست که از گردش پرگار من است
یہ ساری کائنات جو میری نگاہ میں سما جاتی ہے وہ ایک حلقہ یا دائرہ ہے جو میری پرکار کی گردش کے باعث ہے ۔ جس طرح دائرہ کا وجود پرکار کی مدد کا محتاج ہے اسی طرح اس کائنات کا وجود بھی میرے فہم و ادراک کا مرہون منت ہے ۔
Its far horizons, instant to espy, a circle by my spinning compass wrought.
هستی و نیستی از دیدن و نا دیدن من
چه زمان و چه مکان شوخی افکار من است
کائنات کا وجود میرے دیکھنے یا نہ دیکھنے پر منحصر ہے ۔ زمان و مکان میرے افکار کی ندرت کا نتیجہ ہیں ۔ یعنی میں نے اپنی فکر اور سوچ کے ذریعے یہ تصورات اپنائے ہیں ورنہ حقیقت کچھ اور ہے ۔
As I behold, or not, is aught, or naught; time, space, within my mind;
از فسون کاری دل سیر و سکون غیب و حضور
اینکه غماز و گشاینده اسرار من است
کائنات میں جو کچھ بھی ہے چاہے وہ متحرک ہے یا ساکن، ظاہر ہے یا پوشیدہ سب دل کی کرشمہ سازی ہے ۔ دل پوشیدہ اسرار سامنے لانے والا ہے اور اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ اصل حقیقت تو انسان خود ہے ۔ اسے خود کو پہچاننے کی صلاحیت کی موجودگی شرط ہے ۔
Audacious lie, movement, repose, are my heart’s wizardry whereby are secrets known, and mysteries taught.
آن جهانی که درو کاشته را می دروند
نور و نارش همه از سبحه و زنار من است
وہ جہان جس میں ہم اپنے اعمال کا بدلہ چاہتے ہیں یعنی جو ہم دنیا میں بوتے ہیں وہی دوسرے جہان میں کاٹتے ہیں جنت اور دوزخ اسی بنا پر ملتے ہیں ۔ جنت تسبیح نیک اعمال کے باعث ملے گی اور دوزخ بداعمالیوں کا نتیجہ ہو گا ۔
That other world, where reaped is all our sown, its light and fire are of my rosary made;
ساز تقدیرم و صد نغمهٔ پنهان دارم
هر کجا زخمهٔ اندیشه رسد تار من است
میں تقدیر کا ساز ہوں اور میرے اندر سینکڑوں نغمے پوشیدہ ہیں ۔ جہاں کہیں بھی سوچ کی مقراب لگتی ہے وہ میرے ہی ساز کا تار ہوتا ہے ۔ یعنی ظاہری مظاہر میری سوچ کا نتیجہ ہیں ۔
I am fate’s instrument, whose antiphon responds to every string thought ever played;
ای من از فیض تو پاینده نشان تو کجاست
این دو گیتی اثر ماست جهان تو کجاست
اے خدا میں تو تیرے فضل وکرم کی وجہ سے پائندہ ہو گیا ہوں ۔ لیکن تیرا ٹھکانہ کہاں ہے یہ دونوں جہان تو میری فکر کا نتیجہ ہیں پھر تیرا جہان کہاں ہے
Where is Thy sign? In Thee my life is stayed; where is Thy world? These twain are mine alone.
زمین
لَعْلِ سیرابِ بهخونتشنه، لَبِ یارِ من است
وَز پیِ دیدنِ او، دادنِ جان، کارِ من است
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 51
این چه لطف است که با یار وفادار من است
که به من همسفر و خانه نگهدار من است
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1500
عشق سرمایه تسکین دل زار من است
خانه پرداز جهان خانه نگهدار من است
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1501
سیل درمانده کوتاهی دیوار من است
بی سرانجامی من خانه نگهدار من است
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1502
مانع مستی غفلت دل هشیار من است
پادشاه شب من دیده بیدار من است
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1503
فارسی متن کا ماخذ: گنجور