صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 12

غزل شمارهٔ 12

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ارمناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است

جلوهٔ او گرو دیدهٔ بیدار من است

اس جہان کی حقیقت کیا ہے یہ میرے تصور یا احساس کا بت خانہ ہے ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ دراصل یہ میرے تصورات اور احساسات کی دنیا ہے ۔ اس کی حقیقت میری بیدار آنکھ کی مر ہون منت ہے ۔

What is the world? The temple of my thought, the seen projection of my wakeful eye;

2

همه آفاق که گیرم به نگاهی او را

حلقه ئی هست که از گردش پرگار من است

یہ ساری کائنات جو میری نگاہ میں سما جاتی ہے وہ ایک حلقہ یا دائرہ ہے جو میری پرکار کی گردش کے باعث ہے ۔ جس طرح دائرہ کا وجود پرکار کی مدد کا محتاج ہے اسی طرح اس کائنات کا وجود بھی میرے فہم و ادراک کا مرہون منت ہے ۔

Its far horizons, instant to espy, a circle by my spinning compass wrought.

3

هستی و نیستی از دیدن و نا دیدن من

چه زمان و چه مکان شوخی افکار من است

کائنات کا وجود میرے دیکھنے یا نہ دیکھنے پر منحصر ہے ۔ زمان و مکان میرے افکار کی ندرت کا نتیجہ ہیں ۔ یعنی میں نے اپنی فکر اور سوچ کے ذریعے یہ تصورات اپنائے ہیں ورنہ حقیقت کچھ اور ہے ۔

As I behold, or not, is aught, or naught; time, space, within my mind;

4

از فسون کاری دل سیر و سکون غیب و حضور

اینکه غماز و گشاینده اسرار من است

کائنات میں جو کچھ بھی ہے چاہے وہ متحرک ہے یا ساکن، ظاہر ہے یا پوشیدہ سب دل کی کرشمہ سازی ہے ۔ دل پوشیدہ اسرار سامنے لانے والا ہے اور اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ اصل حقیقت تو انسان خود ہے ۔ اسے خود کو پہچاننے کی صلاحیت کی موجودگی شرط ہے ۔

Audacious lie, movement, repose, are my heart’s wizardry whereby are secrets known, and mysteries taught.

5

آن جهانی که درو کاشته را می دروند

نور و نارش همه از سبحه و زنار من است

وہ جہان جس میں ہم اپنے اعمال کا بدلہ چاہتے ہیں یعنی جو ہم دنیا میں بوتے ہیں وہی دوسرے جہان میں کاٹتے ہیں جنت اور دوزخ اسی بنا پر ملتے ہیں ۔ جنت تسبیح نیک اعمال کے باعث ملے گی اور دوزخ بداعمالیوں کا نتیجہ ہو گا ۔

That other world, where reaped is all our sown, its light and fire are of my rosary made;

6

ساز تقدیرم و صد نغمهٔ پنهان دارم

هر کجا زخمهٔ اندیشه رسد تار من است

میں تقدیر کا ساز ہوں اور میرے اندر سینکڑوں نغمے پوشیدہ ہیں ۔ جہاں کہیں بھی سوچ کی مقراب لگتی ہے وہ میرے ہی ساز کا تار ہوتا ہے ۔ یعنی ظاہری مظاہر میری سوچ کا نتیجہ ہیں ۔

I am fate’s instrument, whose antiphon responds to every string thought ever played;

7

ای من از فیض تو پاینده نشان تو کجاست

این دو گیتی اثر ماست جهان تو کجاست

اے خدا میں تو تیرے فضل وکرم کی وجہ سے پائندہ ہو گیا ہوں ۔ لیکن تیرا ٹھکانہ کہاں ہے یہ دونوں جہان تو میری فکر کا نتیجہ ہیں پھر تیرا جہان کہاں ہے

Where is Thy sign? In Thee my life is stayed; where is Thy world? These twain are mine alone.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرچه شاهین خرد بر سر پروازی هست

اندرین بادیه پنهان قدر اندازی هست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 11

اگلی نظم

فصل بهار این چنین بانگ هزار این چنین

چهره گشا ، غزل سرا، باده بیار این چنین

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 13

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

لَعْلِ سیرابِ به‌خون‌تشنه‌، لَبِ یارِ من است

وَز پیِ دیدنِ او، دادنِ جان، کارِ من است

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 51

این چه لطف است که با یار وفادار من است

که به من همسفر و خانه نگهدار من است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1500

عشق سرمایه تسکین دل زار من است

خانه پرداز جهان خانه نگهدار من است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1501

سیل درمانده کوتاهی دیوار من است

بی سرانجامی من خانه نگهدار من است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1502

مانع مستی غفلت دل هشیار من است

پادشاه شب من دیده بیدار من است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1503

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور