صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 13

غزل شمارهٔ 13

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: اراینچنین

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

فصل بهار این چنین بانگ هزار این چنین

چهره گشا ، غزل سرا، باده بیار این چنین

جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔

It is the season of the spring and nightingales are carolling; O smile on me, and chant a song, and freely pass the wine along.

2

اشک چکیده ام ببین هم به نگاه خود نگر

ریز به نیستان من برق و شرار این چنین

میری آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسووَں کو دیکھ اور اپنی کرم کی نگاہ سے بھی دیکھ ۔ میرے سرکنڈوں کے جنگل میں یعنی بے کیف زندگی میں اپنے عشق کی بجلی اور چنگاریاں پھینک دے تاکہ میں تیرے عشق میں جا کر خاک ہو جاؤں ۔

Behold the tears that I have shed, then on Thy beauty turn Thy head; O set my heart of reeds afire with the swift lightning of desire.

3

باد بهار را بگو پی به خیال من برد

وادی و دشت را دهد نقش و نگار این چنین

اے خدا بہار کی ہوا کو حکم دے کہ وہ میرے خیال کا پتہ معلوم کرے اور اس طرح میرے ذہن کے نقش و نگار یعنی افکار و خیالات سے چمنستانِ جہاں کو رونق بخش دے ۔

And bid the breeze of spring, I pray, unto my fancy take its way and paint the valley and the plain with beauteous images again.

4

زادهٔ باغ و راغ را از نفسم طراوتی

در چمن تو زیستم با گل و خار این چنین

جو بھی اس چمنستانِ جہاں اور سبزہ زار میں پیدا ہوا ہے اس میں نمی اور شادابی میرے وجود کی وجہ سے ہے ۔ اے خدا میں نے تیرے اس چمن میں کانٹوں اور پھولوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے ۔ دشمن اور دوست سبھی کے ساتھ محبت کی ہے ۔

Flower in the mead that blossometh, receive new freshness from my breath; amid Thy bower, since I was born, I lived beside the rose and thorn.

5

عالم آب و خاک را بر محک دلم بسای

روشن و تار خویش را گیر عیار این چنین

پانی اور مٹی کے اس جہان یعنی انسان کے خاکی جسم کو میری دل کی کسوٹی کے مطابق کر دے ۔ اور اس میں خیر و شر کو پرکھنے کا معیار قائم کر دے ۔ کیونکہ جو چیز میرے دل کی کسوٹی پر پوری اترے گی وہ ٹھیک ہو گی ورنہ غلط ہو گی کیونکہ خیر و شر کی پہچان مومن دل ہی کر سکتا ہے ۔

On my heart’s touchstone then assay this world of water and of clay; my heart shall prove a mirror bright reflecting all Thy shade and light.

6

دل بکسی نباخته با دو جهان نساخته

من بحضور تو رسم روز شمار این چنین

اے خدا! میں نے تیرے سوا یہ دل کسی اور کو نہیں دیا اور تیرے تعلق کی وجہ سے میں نے دونوں جہانوں سے محبت نہیں کی ۔ میں حشر کے دن تیرے پاس اس حالت میں پہنچوں گا ۔

Thou ’st never gambled with Thy heart, nor of the world had any part; when in Thy presence I would be, what day of reckoning I see!

7

فاخته کهن صفیر نالهٔ من شنید و گفت

کس نسرود در چمن نغمهٔ پار این چنین

باغِ جہاں میں پرانے گیت گانے والی فاختہ نے جب میری فریاد سنی تو بولی کہ باغ میں کسی نے پرانا نغمہ اس انداز سے نہیں گایا ۔ مطلب یہ کہ جس طرح تو نے اپنی شاعری میں اپنے اسلاف کے واقعات بیان کئے ہیں اُسے مردانِ حق سراغ ہے

The aged ringdove in the glade hearkened to my lament, and said, ‘No songbird ever carolled here so sweet an air of yesterday.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است

جلوهٔ او گرو دیدهٔ بیدار من است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 12

اگلی نظم

برون کشید ز پیچاک هست و بود مرا

چه عقده ها که مقام رضا گشود مرا

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 14

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور