برون کشید ز پیچاک هست و بود مرا
چه عقده ها که مقام رضا گشود مرا
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
From life and being’s twisted skein let me be free; in resignation is to gain true liberty.
تپید عشق و درین کشت نا بسامانی
هزار دانه فرو کرد تا درود مرا
عشق کی تڑپ و بے چینی نے اس بے سروسامان کھیت میں جس میں کوئی فصل موجود نہیں تھی ہزار دانے ڈال کر پھر کہیں جا کر اس فصل کو کاٹا یعنی آدم کی تخلیق ہوئی ۔
Love quivered, and within this field of barren spring sprinkled a thousand seeds, to yield my harvesting.
ندانم اینکه نگاهش چه دید در خاکم
نفس نفس به عیار زمانه سود مرا
معلوم نہیں اس کی نگاہ نے میری خاک میں کیا دیکھا؛ کہ میرے ایک ایک لمحے کو زمانے کی کسوٹی پر پرکھا ۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Indeed I know not what His glance viewed in my clay upon the stone of time and chance me to assay.
جهانی از خس و خاشاک در میان انداخت
شرارهٔ دلکی داد و آزمود مرا
میرے درمیان بے قیمت گھاس پھونس کا ایک جہان ڈال دیا گیا ۔ یعنی ایسی دنیا میں بھیج دیا گیا جس کی حیثیت تنکوں سے زیادہ نہیں تھی ۔ پھر میرے چھوٹے سے دل میں ایک چنگاری رکھ کر مجھے آزمائش میں ڈال دیا ۔
With stubble and with straw He came a world to found, then gave to me a heart of flame to prove me sound.
پیاله گیرز دستم که رفت کار از دست
کرشمه بازی ساقی ز من ربود مرا
اے ساقی جہاں ! یہ ساغر میرے ہاتھ سے پکڑ لے کیونکہ مجھے جذبہ و مستی نے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ ساقی کی اداؤں نے ہی مجھے مست و بے خود کر دیا ہے پھر اس ساغر کی کیا ضرورت ہے ۔
O take the goblet from my hand, for hope is past; the saki played at glances, and my heart was lost.
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور