صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 15

غزل شمارهٔ 15

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: شان

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خیز و به خاک تشنه‌ای بادهٔ زندگی فشان

آتش خود بلند کن آتش ما فرونشان

اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔

Rise! And upon the thirsty land sprinkle life’s wine with lavish hand; kindle anew the spirit’s fire, and bid the flame in us expire.

2

میکدهٔ تهی سبو حلقهٔ خود فرامشان

مدرسهٔ بلند بانگ بزم فسرده‌آتشان

اب اس عہد کے شراب خانوں کے مٹکے خالی ہو چکے ہیں اور مے کشوں کے گروہ اپنی ذات کی پہچان سے بے خبر ہیں ۔ مطلب یہ کہ آج کے صوفیا کی خانقاہیں بادہَ معرفت سے خالی ہو چکی ہیں آج کا مدرسہ کے بلند بانگ دعوے تو کرتا ہے لیکن اس کے دامن میں بھی مایوس کے سوا کچھ نہیں ۔ وہ بھی علم و عشق سے بیگانہ ہو چکا ہے ۔

The tavern wine is drained and gone, the drinkers find oblivion; the school re-echoes to the shout, and every lamp has flickered out.

3

فکر گره گشا غلام دین به روایتی تمام

زآن که درون سینه‌ها دل هدفی است بی‌نشان

اس دور کے مسلمانوں کی سوچ اور فکر دوسروں کی غلام بن گئی ہے ان کے اصول روایتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ وہ اپنا تشخص کھو چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سینوں میں جو دل ہے وہ ایک بے نشان ہدف کی مانند ہے ۔ جب ہدف کا ہی کچھ پتہ نہیں تو تیر کہاں چلایا جائے ۔ مطلب یہ کہ ان کے دل عشق الہٰی سے خالی ہو چکے ہیں ۔

Reason’s a knot-resolving slave, faith mid convention’s laid to grave, for in the breast there beats a heart, the unseen target of love’s dart;

4

هر دو به منزلی روان هر دو امیر کاروان

عقل به حیله می‌برد ، عشق برد کشان کشان

عقل اور عشق دونوں ہی اپنی اپنی منازل کی طرف جا رہے ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے کارواں کے سالار ہیں ۔ لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ عقل حیلے بہانوں سے کام لیتی ہے جبکہ عشق آدمی کو ہر مصلحت سے بے نیاز کر دیتا ہے ۔

Both are in quest of one abode and both would lead upon the road: Reason tries every stratagem, but love pulls gently by the hem.

5

عشق ز پا در آورد خیمهٔ شش جهات را

دست دراز می‌کند تا به طناب کهکشان

عشق میں ایسی قوت ہے کہ وہ چھ اطراف والے خیمہ یعنی زمان و مکان والے خیمہ کے جہان کو گرا دیتا ہے ۔ دنیا کو تسخیر کر لیتا ہے ۔ وہ ایسی طاقت ہے جو کہکشاں تک رسائی رکھتی ہے بلکہ اس سے بھی آگے جہانوں کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے ۔

Love to the dust ruin hurled the tabernacle of the world, and stretches high his fingers, even unto the canopy of heaven.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

برون کشید ز پیچاک هست و بود مرا

چه عقده ها که مقام رضا گشود مرا

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 14

اگلی نظم

تو باین گمان که شاید سر آستانه دارم

به طواف خانه کاری بخدای خانه دارم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 16

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سخت به ذوق می‌دهد باد ز بوستان نشان

صبح دمید و روز شد خیز و چراغ وانشان

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 453

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور