شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
قافیہ: انهدارم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
تو باین گمان که شاید سر آستانه دارم
به طواف خانه کاری بخدای خانه دارم
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
Thinkest Thou that to the threshold I have made this pilgrimage? With the master of the household I have business to engage.
شرر پریده رنگم مگذر ز جلوهٔ من
که بتاب یک دو آنی تب جاودانه دارم
اے خدا! تیرے وصال کے بغیر میں ایک بے رنگ چنگاری کی مانند ہوں ۔ تو مجھے اپنا رخِ روشن دکھائے بغیر نہ جا ۔ کیونکہ تیری ایک دو لمحوں کی تپش دیدار کی وجہ سے میرے دل کو ہمیشہ کا سوز حاصل ہو جائے گا ۔
O deny me not Thy presence, for a wan, pale spark am I that to win a moment’s luster in eternal fever lie.
نکنم دگر نگاهی به رهی که طی نمودم
به سراغ صبح فردا روش زمانه دارم
میں جو راستہ طے کر چکا ہوں (تیرے عشق میں ) اس راستے سے میں واپس آنے والا نہیں ہوں ۔ میں نے آنے والی کل کے سراغ میں زمانے کے طرزِ عمل کو اپنا لیا ہے ۔ مطلب یہ کہ میری ماضی پر نظر نہیں ہوتی بلکہ میں مستقبل کے بارے میں سوچتا ہوں ۔
Never more will I look backward on the road that I have traced; ‘Tis to gain the far to-morrow that, like Time, I forward haste.
یم عشق کشتی من یم عشق ساحل من
نه غم سفینه دارم نه سر کرانه دارم
عشق کا سمندر ہی میری کشتی ہے اور عشق کا سمندر ہی میرا ساحل ہے ۔ اس لیے تو مجھے کشتی کے ڈوبنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی میری خواہش ہے کہ کشتی کنارے جا لگے ۔
Lo, love’s ocean is my vessel, and love’s ocean is my strand; for no other ship I hanker, nor desire another land.
شرری فشان ولیکن شرری که وا نسوزد
که هنوز نو نیازم غم آشیانه دارم
اے خدا! مجھ پر اپنے ہر عشق کی ایسی چنگاری پھینک، جس سے میرا جسم جل کر بھسم ہو جائے، کیونکہ میں تو منزل عشق کا نیا راہی ہوں ۔ ابھی تو مجھے اپنے آشیانہ کا غم کھائے جا رہا ہے ۔ مجھے اپنے عشق کے رموز سے آہستہ آہستہ آشنا کر ۔
Scatter now a spark, but gently, such a spark as will not burn; I am newly fledged to needing, to the nest I would return.
«به امید اینکه روزی به شکار خواهی آمد»
ز کمند شهریاران رم آهوانه دارم
اے میرے محبوب میں تو اس امید پر کہ تو ایک نہ ایک دن میرے شکار کے لیے آئے گا ، بادشاہوں کی کمند سے ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا نکل آیا ہوں ۔ مطلب یہ کہ میں تو تیرا غلام ہوں مجھے بادشاہوں اور ان کے درباریوں سے کیا نسبت ہو سکتی ہے ۔
In the far, fond hope that, haply, Thou wilt hunt for me one day, from the spinning noose of princes like a fawn I leapt away.
تو اگر کرم نمائی بمعاشران ببخشم
دو سه جام دلفروزی ز می شبانه دارم
اے خدا! تو اگر مجھ پر اپنا رحم و کرم فرمائے تو میں اپنے معاشرے کے افراد یا اپنے دوستوں اور ہم صحبت احباب کو رات کی بزم سے بچی ہوئی دل کو روشنی کرنے والی شراب کے جام پلا سکتا ہوں ۔ مرا دیہ ہے کہ میں اپنے اسلاف کے اقدار کی دولت کو اپنے عہد کے مسلمانوں میں بانٹ دوں ۔
And if Thou wilt be so gracious, I will give these friends of mine a bright glass or two delightful of my night-consoling wine.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور