شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: ارهمیگذرد
صنف: غزل/قصیده/قطعه
نظر به راهنشینان سواره میگذرد
مرا بگیر که کارم ز چاره میگذرد
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
With a glance at us who sit by the way He goes riding by: Conceive, if Thou canst, my soul’s dismay sore distraught am I.
به دیگران چه سخن گسترم ز جلوهٔ دوست
به یک نگاه مثال شراره میگذرد
میں دوسروں سے اپنے دوست کے جلووَں کے بارے میں کیا کہوں کیونکہ وہ تو پلک جھپکنے میں چنگاری کی طرح سامنے سے گزر جاتا ہے ۔ اس کے جلوہَ حسن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ۔
What have I to tell of the lovely fair unto anyone? With a gaze as swift as a spark in the air He is past and gone.
رهی به منزل آن ماه سخت دشوار است
چنانکه عشق به دوش ستاره میگذرد
اس چاند (محبوب) تک پہنچنا بڑا دشوار گزار ہے، کیونکہ اس تک پہنچنے کے لیے ستاروں کے شانوں پر سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ آسان کام نہیں ۔
To the friend’s abode it is hard to tread and the road is far; but love rides high, and is quickly sped on the back of a star.
ز پردهبندی گردون چه جای نومیدیست
که ناوک نظر ما ز خاره میگذرد
محبوب آسمان کی پردہ بندی کئے بیٹھا ہے ۔ یہ عاشق کے لیے نا امیدی کا پیغام نہیں ۔ کیونکہ عاشق کی نظر تو عرش سے بھی پرے جا سکتی ہے ۔ اس کی نظر کا تیر تو سخت پتھر کے بھی پار ہو جاتا ہے ۔ یہ پردہ تو معمولی چیز ہے ۔
What cause to despair, though the circling sky be wrapped in a veil? It will pierce a rock, the audacious eye, and it cannot fail.
یمی است شبنم ما کهکشان کنارهٔ اوست
به یک شکستن موج از کناره میگذرد
ہماری شبنم ایک سمندر ہے اور کہکشاں اس کا کنارہ ہے ۔ وہ لہر کی ایک شکست سے کنارے سے گزر جاتی ہے ۔ اور سمندر میں مل کر سمندر بن جاتی ہے ۔ آدمی قطرہ شبنم کی طرح ہے اگر وہ عشق کے سمندر میں ڈوب جائے تو خود سمندر بن جائے ۔ یعنی خدا کی ذات میں غرق ہو کر خدائی صفات پیدا ہو جاتی ہے ۔
Our sprinkled dew is an ocean wide, and the sky its shore; let a lone wave break, and its swelling tide shall yet higher soar.
به خلوتش چو رسیدی نظر به او مگشا
که آن دمی است که کار از نظاره میگذرد
جب تو اس محبوب کی خلوت گاہ میں پہنچ جائے تو اسے نظر بھر کر نہ دیکھ کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب کام نظارہ کی حد سے گزر کر وصال کی حدوں کو چھو رہا ہوتا ہے ۔
When Thou shalt stand with Him face to face, do not lift thine eyes; for sight is vain in that holy place, and the vision dies.
من از فراق چه نالم که از هجوم سرشک
ز راه دیده دلم پارهپاره میگذرد
میں اپنے محبوب کے ہجر میں اب کس طرح رووَں کہ آنسووَں کے سیلاب کے باعث میرا دل آنکھوں کے راستے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر باہر آ رہا ہے ۔ مجھے تو اپنے دل کا ماتم کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی، میں جدائی کا شکوہ کیا کروں
How should I weep, though sorrow sears? For my broken heart is borne on the flood of my bitter tears, and wi1l soon depart.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور